اصحاب احمد (جلد 10) — Page 44
44 طبیعت نے گوارا نہ کیا کہ میں اس کے پانی سے آب دست لوں۔ہماری دکان سے ذرا فاصلہ پر ایک کنواں تھا میں قضائے حاجت کے لئے جاتے ہوئے لالہ تلک رام کی دکان پر گیا جو کنویں کے پاس ہی تھی ان سے برتن لیا پانی نکالا۔اور قضائے حاجت کے لئے چلا گیا۔فراغت کے بعد جب میں جو ہر کی طرف نہ گیا بلکہ دوسرے راستہ سے دکان پر آیا اور دکان پر بیٹھ گیا۔تو میرے بھائی کو یہ خیال گذرا کہ شاید میں بغیر طہارت کئے ناپاکی کی حالت میں دکان کی گدی پر جس کو سناتنی خیالات کے لحاظ سے ہم لکشمی کی گدی کہتے ہیں آبیٹھا ہوں۔اس وقت تو بھائی خاموش رہے رات کو 9 بجے جب ہم دکان بند کر کے گھر گئے تو میرے بھائی میں حال کی سی کیفیت پیدا ہوگئی۔اور وہ اپنی عادت کے مطابق کھیلنے لگ گئے۔میں اور میری والدہ صاحبہ نے نہایت ادب سے پوچھا کہ کون مہاراج بھگت میں براجمان ہوئے ہیں۔جواب ملا میں لکشمی دیوی ہوں۔اور سخت برافروختہ ہوکر میری طرف اشارہ کیا۔اور کہا اس لڑکے نے آج میری گدی کو بھرشٹ کر دیا ہے۔میری والدہ سہم گئیں۔اور مجھے ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگیں کہ تم نے کیا پاپ کیا کہ لکشمی دیوی کو ناراض کر دیا۔اور نہایت عاجزی سے دیوی سے التجا ئیں کرنے لگیں کہ وہ مجھ کو معاف کر دے کیونکہ ڈر تھا کہ دیوی ناراض ہو کر ہم سے دولت نہ چھین لے۔ادھر میں سوچ میں پڑ گیا کہ مجھ سے کیا خطا سرزد ہوئی ہے جب مجھے اپنا کوئی قصور نظر نہ آیا تو ڈرتے ڈرتے میں نے دلیری سے پوچھ ہی لیا۔تب دیوی نے گرج کر کہا کہ آج بغیر آب دست لئے تم میری گدی پر بیٹھ گئے ہو۔اور اب کہتا ہے کہ میں نے کیونکر گدی کو بھرشٹ کیا ہے۔تم نے میرا ایمان کیا ہے۔میں یہ کروں گی وہ کروں گی وغیرہ۔جونہی کہ مجھے یہ جواب ملا۔میری آنکھیں کھل گئیں اور میرے اعتقادات کو سخت صدمہ لگا میں چھوٹا تھا۔بھائی کے سامنے بولنے کی مجھے کبھی جرات نہ ہوئی تھی لیکن ایک خلاف واقعہ الزام لگتے دیکھ کر مجھ سے نہ رہا گیا۔اور نہایت دلیری سے بولا کہ یہ بالکل جھوٹ ہے کہ میں نے آب دست نہیں لی۔جا کر پوچھئے لالہ تلک رام سے میں نے ان سے برتن لے کر کنویں سے پانی لیا ہے اور طہارت کی ہے جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے جب میں نے دلیری سے یہ جواب دیا۔اور میرے بھائی نے دیکھا کہ اب تو کھیل بالکل بگڑ گیا ہے فورا لکشمی جی ان میں سے نکل گئیں۔اور میرے بھائی نے چراغ کے سامنے ماتھا ٹیک دیا۔غرض اس واقعہ سے میں سخت بد اعتقاد ہو گیا۔اور خیال کرنے لگا کہ یہ سب ہندؤوں کے پاکھنڈ ہیں۔ان دیوی دیوتاؤں میں کچھ صداقت نہیں۔بت پوجا سے مجھے نفرت ہونے لگی۔اس وقت تک مجھ کو کسی مسلمان کی صحبت میسر نہیں ہوئی تھی۔اور نہ خدا تعالیٰ کے متعلق صحیح معرفت تھی۔اس واقعہ کے بعد میرے دل میں ایک بے چینی