اصحاب احمد (جلد 10) — Page 501
501 بتادی اور بعد میں ایسا ہی وقوع میں آیا۔(۱۳۱) شیخ عبدالرحمن صاحب اپنے والد صاحب کی وفات سے پہلے کا یہ رویا بیان کرتے ہیں کہ میں دہلی ریلوے اسٹیشن کے ایک پلیٹ فارم پر ہوں اور ریلوے کے کراسنگ پل پر سے گذر رہا ہوں کہ دیکھا اس پلیٹ فارم سے ایک جم غفیر پل کی طرف آرہا ہے اور بہت شور ہے اور لوگ بھاگ بھاگ کر اس انبوہ کثیر کی طرف جارہے ہیں۔اتنے میں یہ شور بلند ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لا رہے ہیں اور ایک بھاری مجمع حضور کیسا تھ ہے میں پل پر کھڑ انظارہ دیکھ رہا ہوں اور یہ مجمع میری طرف ہی آ رہا ہے حتی کہ وہ ریلوے پل پر چڑھ گیا اور میں نے پل پر حضور کا مبارک چہرہ اچھی طرح دیکھا اور حضور میرے پاس سے گذر کر آگے نکل گئے اور اتنے بڑے مجمع کے دھکم پیل میں میں اور والدہ ماجدہ جو اس وقت زندہ تھیں مع بھائی مسعود الرحمن صاحب پیچھے رہ گئے یہ دونوں مجھ سے آملے حضور کے گذر جانے کے بعد کوئی کوئی آدمی رہ گیا۔اس وقت میں بہت پریشان تھا میں بھی ان لوگوں کے ساتھ ہو لیا جو تھوڑی تعداد میں باقی رہ گئے تھے۔اتنے میں حضرت اقدس اس بھاری مجمع سمیت ریلوے پل سے بجلی کی چمک کی طرح گویا برق رفتاری سے نیچے پلیٹ فارم نمبرا پر اتر گئے۔جہاں ایک سپیشل ٹرین کھڑی ہے۔حضور اس میں سوار ہو گئے۔معلوم ہوا کہ یہ پیشل ٹرین جنتیوں کی ہے۔اور حضور ان سب کو ہمراہ لے کر دہلی سے قادیان تشریف لے جارہے ہیں۔یہ ٹرین وفات یافتہ افراد سے کچھا کچھ بھری ہوئی ہے۔ہم نے ڈبوں میں جھانک جھانک کر والد صاحب کی تلاش کی جو وفات یافتہ تھے اس ٹرین کے تمام مسافر خشوع خضوع سے ذکر الہی میں مصروف ہیں۔نہ وہ ایک دوسرے سے کلام کرتے ہیں نہ نظر اٹھا کر دیکھتے ہیں سب نے ادب سے گردنیں جھکائی ہوئی ہیں۔آخری ڈبہ میں ایسی ہی حالت میں ہم نے والد صاحب کو دیکھا اور دوسروں کی طرح ان کو سفید لباس میں ملبوس پایا۔ہمیں بھی یہ خواہش ہوئی کہ ہم بھی جو زندہ تھے اس ٹرین میں سوار ہو جائیں جب ہم سوار ہونے کے لئے آگے بڑھتے تو بوگی بہت بلند ہو جاتی اور ہم اس میں سوار نہ ہو سکتے۔جب ہم پیچھے ہٹ جاتے تو ڈبہ پھر نیچے ریلوے فارم پر جہاں ٹرین ختم ہوتی تھی آگے بڑھکر ریلوے یارڈ میں میں نے دیکھا کہ وہاں بہت سے افراد ہیں۔لمبی سفید ریش والے، بوڑھے، ضعیف، سفید لباسوں میں ملبوس انہوں نے زمین میں چھوٹے چھوٹے گڑھے کھود کر اپنے اپنے چولہے بنائے ہوئے ہیں۔وہ آٹا گوندھ رہے ہیں۔جن سے آنا فاناڈبل روٹی تیار ہوتی جاتی ہے جسے وہ تو ڑ تو ڑ کر دودھ میں ڈال کر جلدی جلدی کھا رہے ہیں۔اتنے میں اس اسپیشل ٹرین کی روانگی کا وقت ہو گیا۔یہ سب