اصحاب احمد (جلد 10) — Page 496
496 (۱۷) تأثرات حکیم دین محمد صاحب حضرت حکیم دین محمد صاحب مہاجر دار الرحمت وسطی ربوہ (جن کا وطن ضلع جالندھر تھا۔اور جو حضرت مصلح موعودؓ کے ہم جماعت ہیں ) بیان کرتے ہیں کہ مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان میں زیر تعلیم رہا۔حضرت میاں حبیب الرحمن خاکسار ۱۹۰۲ ء تا ۱۹۰۵ء مدرسه می صاحب کے صاحبزادہ میاں محب الرحمن صاحب جو ۱۹۰۱ء سے وہاں تھے ہمارے ساتھ تعلیم میں شامل ہوئے ہمارا قیام بورڈنگ ہاؤس میں تھا۔ہم آپس میں بے تکلف ہو گئے اور اس بات سے خوش تھے کہ ہم ہموطن ہیں موضع حاجی پورہ کی تحصیل پھگواڑہ تھی اور پھگواڑہ واحد ریلوے سٹیشن تھا جو راہوں بنگہ اور نواں شہر کے مقامات کے لوگوں کی آمد و رفت کا ذریعہ تھا۔اور موضع حاجی پور راستہ میں واقع تھا۔خاکسار تحصیل نواں شہر کے قصبہ راہوں کا باشندہ تھا۔حضرت میاں صاحب سے میری اوّلیں ملاقات قادیان میں ہی ہوئی تھی۔بعد ازاں موسم گرما کی تعطیلات میں اپنے گھر جاتے ہوئے میاں محب الرحمن صاحب کی دعوت پر خاکسار نے ایک دوروز حاجی پور میں قیام کیا تھا۔لیکن ۱۹۰۵ء میں قادیان سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مجھے چند ماہ وہاں آپ کی بابرکت صحبت سے فیض یاب ہونے کا موقع میسر آیا اور میں اپنے تاثرات اس زمانہ کے بیان کرتا ہوں۔اس موضع کے تمام مکانات کچے تھے۔البتہ حضرت میاں صاحب کا مکان اور اس سے ملحقہ مسجد دونوں پکے تھے۔چھوٹی اینٹوں سے تعمیر شدہ تھے اور ساڑھے آٹھ صدا یکٹر اراضی کا نصف آپ کی ملکیت تھا یہ اراضی چاہی تھی لیکن اس علاقہ کی دیگر اراضیات کی طرح بارش سے بھی اس کی آبیاری ہوتی تھی اور آپ کا گزارہ اس کی آمدنی پر تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کی زندگی شریفانہ اور رئیسانہ طریقہ سے بسر ہوتی تھی سب ہی افراد خاندان دھوبی دھلے ،صاف ستھرے، اجلے لباس میں ملبوس ہوتے تھے تخت پوشوں اور بستروں کی چادریں ہر ہفتہ تبدیل کی جاتی تھیں۔کھانا اندر سے طشتوں میں لگ کر آتا اور آپ بچوں اور مہمانوں کے ساتھ مل کر کھانا کھاتے تھےمہمان نوازی آپ کے اخلاق کا ایک حصہ تھا۔آپ کے خاندان کی مادری زبان اردو تھی لیکن آپ کے مزارعان پنجابی زبان بولتے تھے ان کو آپ کی صحبت میں پیٹھ میں نے نہیں دیکھا۔ممکن ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ حقہ نوشی کے عادی تھے جبکہ آپ کے خاندان کا کوئی فرد بھی اس کا عادی نہیں تھا۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لا کر مطمئن تھے آپ کے رشتہ کے بھائی حضرت منشی ظفر احمد -