اصحاب احمد (جلد 10) — Page 495
495 کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو مد نظر رکھتے تھے۔گھر میں خادمات ہونے کے باوجود آپ اپنی اہلیہ محترمہ کا ہاتھ امور خانہ داری میں بٹاتے تھے حتی کہ کھانا پکانے برتن صاف کرنے یا چائے تیار کرنے اور پلانے میں باک نہ سمجھتے تھے بلکہ چائے اکثر آپ خود تیار کر کے سب کو اپنے ذاتی کمرہ میں بلا کر بنا بنا کر دیتے اور ساتھ ہی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح احادیث اور دینی مسائل اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات کا تذکرہ کرتے تھے۔(۱۲۳) (۱۵) دعا ئیں اور ذکر الہی جب کوئی امر باعث تشویش لاحق ہوتا تو آپ بہت دعائیں کرتے دوسرے روز آپ کے عزیز بہت حیران ہوتے کہ کل کیا حال تھا اور آج آپ بالکل مطمئن ہیں اور اس تکلیف کا ذکر تک نہیں کرتے آپ بتاتے کہ خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی زیارت ہوئی ہے۔اور حضور نے تشفی دی ہے۔آپ تہجد کے پابند تھے ذکر الہی میں مصروف رہتے تھے۔انسـت الهـادي أنت الحق ليس الهادى الا هو اوریاحی یا قیوم برحمتک استغیث آپ کے ورد زبان رہتا تھا۔عمر کے آخری بیس برس خصوصاً آپ کے عبادت الہی میں صرف ہوئے۔آپ بہت کم سوتے تھے۔آپ کے پوتے شیخ لطف المنان صاحب بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت منشی صاحب کو نور فراست اور کشوف صحیحہ سے نوازا تھا۔(۱۲۵) (۱۲۴) (۱۲) حضرت مسیح موعود سے محبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے متبعین میں بفضلہ تعالی الہی محبت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام اور قرآن کریم سے والہانہ عشق پیدا کر دیا تھا۔اس احسانِ عظیم کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصحاب کے اندر حضور کے لئے عشق کا جذ بہ موجزن تھا منشی کظیم الرحمن صاحب تحریر کرتے ہیں کہ والد صاحب حضرت اقدس اور حضور کے خاندان سے ایک قسم کا عشق رکھتے تھے جب بھی آپ حضرت اقدس کا ذکر کرتے تو چشم پر نم ہو جاتے اور بعض دفعہ بیقرار ہوکر آپ کی پیچکی بندھ جاتی اور بالآخر آپ بے اختیار ہو کر کہتے کہ ہم تو یتیم رہ گئے۔(۲۲) حضرت عرفانی صاحب بھی رقم فرماتے ہیں کہ۔ایسا ہی محبی مخدومی حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب پیارے آقا کے فدائیوں میں سے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذکر پر ہمہ درد اور اضطراب ہو جاتے ہیں۔(۱۲۷) ا آپ ۱۹۸۳ء میں وفات پاگئے اور بہشتی مقبرہ ر بو میں مدفون ہوئے۔الطعم المطران وارحمہ آمین