اصحاب احمد (جلد 10) — Page 494
494 کے باوجود آپ نے تعلق قطع کر لیا۔حکیم صاحب نے دوسروں کی معرفت معافی طلب کی۔لیکن آپ کا کہنا تھا کہ ایسے خیالات رکھنے والے شخص کو آپ میرے پاس لائے ہی کیوں تھے۔پھر حکیم صاحب خود آئے اور اپنے بھائی کے قصور کا اعتراف کر کے معافی چاہی اور اپنی کسی ضرورت کے لئے امداد بھی چاہی اس پر منشی صاحب نے اُن کو معاف کر کے ان کی امداد بھی کر دی۔آپ کے ایک ہی حقیقی بھائی تھے۔جو آپ سے بڑے بھی تھے۔اور بڑا ہونے کی وجہ سے آپ ان کا بہت احترام کرتے تھے اور محبت بھی۔وہ معمولی دنیا دار انسان تھے ایسے عالم بھی نہیں تھے اور بوجہ ملازمت زیادہ تر اودھ میں رہائش رکھتے تھے۔گو وہ سلسلہ احمدیہ سے بہت عداوت رکھتے تھے۔لیکن آپ کی موجودگی میں کبھی مخالفت نہ کرتے تھے۔لیکن ایک شادی کی تقریب میں اقارب کی موجودگی میں انہوں نے دوران گفتگو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں گستاخانہ کلمہ استعمال کر دیا۔منشی صاحب کے لئے یہ امر نا قابل برداشت تھا اس پر بڑے بھائی کو آپ سے معافی طلب کرنا پڑی۔۲ (۱۳) اکرام ضیف - آپ اس میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرتے تھے۔اور آپ کا یہ خلق زبان زد خلائق تھا۔جب (۱۹۰۵ء میں) حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی سے مراجعت فرما ہوئے تو منشی صاحب اجازت لے کر لدھیانہ سے پہلی گاڑی سے پھگواڑہ پہنے تانگہ، کریام وغیرہ کے منتظر احباب کو اطلاع دے سکیں۔اور ان سب کو سامان خوردونوش لے کر ساتھ حاجی پور لے گئے اور تنور گرم کروا دئیے اور دیکھیں چڑھوا دیں اور تھوڑے سے وقفہ میں پر تکلف کھانا سب کو کھلا کر اسٹیشن پر پہنچا دیا گیا۔اور یہ احباب حضور کی ملاقات سے مشرف ہوئے اور منشی صاحب نے حضور کی خدمت میں اپنی باغیچی کا پھل وغیرہ پیش کیا۔اور جالندھر تک حضور کے ہمرکاب رہنے کے بعد آپ واپس ہوئے۔جدید (الهه) (۱۴) اسوۂ نبوی کی اقتدا۔روزمرہ کی زندگی میں چھوٹی سی چھوٹی بات میں آپ حضرت رسول الحکم ۲۱ را گست ۱۹۳۵ء (صفحہ ۱ کالم او۳) ۷ ستمبر (صفحہ ۵ کالم ۱) ۷ ستمبر والے حصہ میں یہ بھی درج ہے کہ پھگواڑہ کے راستہ آمد ورفت کی اطلاع منشی حبیب الرحمن صاحب کو ہوتی اور وہ جالندھر سے لدھیانہ تک اور ادھر لدھیانہ یا پھلور سے جالندھر شہر تک ہمرکاب رہتے۔بزرگان و مبلغین سلسلہ کی آمد ورفت کی اطلاع ہونے پر بھی منشی صاحب ان سے ملاقات کرتے اور کچھ تحفہ پیش کرتے۔حضرت میر ناصر نواب صاحب سال میں ایک دو دفعہ ضرور حاجی پور تشریف لاتے تھے۔یہ مصدقہ منجانب حضرت منشی ظفر احمد صاحب ہے۔) مضمون