اصحاب احمد (جلد 10) — Page 493
493 کر کے لجاجت سے التجا کی گئی کہ اگر کسی اور کمرہ کا انتظام کر دیا جائے تو بہت مہربانی ہوگی۔اس پر مصری صاحب نے کھڑے کھڑے درشتی اور بے اعتنائی سے تیز اور کرخت لہجہ میں جواب دیا کہ ہم کیا کریں۔ہم کوئی انتظام نہیں کر سکتے مکانات ہوتے نہیں۔اور یونہی چٹھیاں تحریر کر دی جاتی ہیں یہ جواب دیتے ہی مصری صاحب اپنے گھر کے اندر چلے گئے۔مغرب کے بعد کا وقت تھا ہم واپس آئے۔والد صاحب کا بخار بڑھ گیا تھا۔اور بے چینی ہو گئی تھی۔ہم نے خود ہی کمرہ سے اینٹیں اور گارا نکالا اور اسے صاف کیا اور خشک مٹی اس میں ڈالی۔نیچے بچھانے کے لئے پرالی کا نیز روشنی کا انتظام کیا۔والد صاحب نے صبر سے ساری تکلیف برداشت کی البتہ فرمایا کہ مصری عبد الرحمن منافق ہے جماعت کو اس کا خیال رکھنا چاہیے اس وقت مصری صاحب کا جماعت میں بہت احترام تھا۔ہم والد صاحب سے بار بار کہتے کہ مصری صاحب مخلص ہیں۔والد صاحب تو ۱۹۳۰ء میں وفات پاگئے لیکن چھ سات سال بعد مصری صاحب کی منافقت ظاہر ہوئی۔(۱۲) احمدیت کے لئے غیرت آپ کے خاندان کے ایک پرانے حکیم کو آپ سے بہت محبت تھی۔اور وہ آپ کے زیر تبلیغ بھی تھے۔ایک روز حکیم صاحب اپنے ایک بھائی کی معیت میں جو ریاست مالیر کوٹلہ میں مفتی تھے۔آپ کی عیادت کے لئے آئے۔دوران گفتگو احمدیت کے بارے میں باتیں شروع ہوگئیں۔اس مفتی نے احمدیوں کو واجب القتل قرار دیا اس سے منشی صاحب کو نا قابل برداشت صدمہ ہوا اور آپ بہت روئے اور کہتے تھے کہ بہتر ہوتا کہ اس بات کے سننے سے پہلے مرجاتا۔اس واقعہ کے بعد آپ نے اس مفتی کا منہ تک نہیں دیکھا اور حکیم صاحب سے خاندانی تعلقات ہونے از مؤلف - اس جلسہ سالانہ کے دس سال بعد خود اپنی منافقت کا اظہار اپنی چٹھیوں سے مصری صاحب نے کیا، وہ یہاں ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ، مرکزی قاضی، کبھی قائم مقام ناظر تعلیم اور کبھی امیر مقامی مقرر ہوتے تھے۔۱۹۲۴ء کے سفر عرب و یورپ میں حضرت مصلح موعودؓ کے رفقاء میں سے تھے۔معتمد تھے۔لیکن شومی قسمت کہ جیسے خلافت اولی میں حضرت مصلح موعودؓ نے خصوصی طور پر عربی تعلیم دلائی اس نے خلافت سے انحراف کیا۔اب وہ برے انجام سے فوت ہوئے۔اپنے عقائد سے انحراف کر کے غیر مبائعین میں شامل ہوئے۔مولوی محمد علی صاحب سر براہ غیر مبایعین کا بھی اعتماد کھویا اور ان کی وصیت تھی کہ تین چار فلاں فلاں افراد بشمول مصری صاحب ان کے جنازہ کو ہاتھ نہ لگائیں۔بڑے لڑکے بشیر احمد نے احمدیت ترک کی اور دو کنگ مسجد خود غیر از جماعت لوگوں کے سپرد کردی- انا لله وانا اليه راجعون