اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 481 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 481

481 تھے جو بعد ازاں افسوس مرتد ہو گئے۔۱۸۹۲ء میں انہی نقول سے منشی صاحب نے ” مکتوبات امام ہمام“ کی تین جلد میں تیار کیں۔جن میں حضور کے قیمتی مکتوبات کا ایک بڑا ذخیرہ محفوظ ہوگیا۔خاکسار کے نزدیک اس بارہ میں اولیت کا سہرا آپ کے سر پر ہے۔اس وقت ابھی الحکم کا اجراء نہیں ہوا تھا جس میں ایسے نوادر محفوظ ہونے لگے۔ان مجموعات کی افادیت کا اس سے علم ہوتا ہے کہ حضرت صوفی احمد جان صاحب لدھیانوی کو حضرت اقدس نے ایک دعائیہ تحریک لکھ کر دی تھی جو وہ حج کے موقع پر پڑھیں اور صوفی صاحب نے اس تحریر دعا کو بیت اللہ شریف اور عرفات میں پڑھا تھا۔صوفی صاحب کے فرزند حضرت پیر منظور محمد صاحب ( موجد قاعدہ میسر نالقرآن ) کی طرف سے اس دعا کی نقل اصل مکتوب سے الحکم میں ۱۸۹۸ء میں شائع ہوئی تھی۔اور چونکہ اس مکتوب کی روشنائی بعض جگہ مدہم یا محو ہو چکی تھی۔الحکم میں وہاں نقطے دئے گئے تھے لیکن منشی صاحب کے ذریعہ یہ تحریر کاملا محفوظ ہوگئی۔(۱۱۰) (۲) الحکم کی قدر دانی کے بارے مضمون (۱۹۰۰ء میں) (۳) احمد دین صاحب ولد وزیر احمد صاحب ساکن بہرام ضلع جالندھر کا احکام کا پرچہ مشرقی افریقہ سے اس نوٹ کے ساتھ واپس آگیا کہ وہ فوت ہو گئے ہیں اس پر منشی صاحب رئیس اور نمبردار حاجی پور کی چٹھی الحکم میں شائع ہوئی کہ مرحوم کی والدہ اور بھائی زندہ ہیں۔احباب افریقہ ان کا روپیہ اور سامان پسماندگان کے لئے بھجوادیں۔اور مجھ سے خط و کتابت کریں۔(۴) اخبار وطن سے معاہدہ کے بارے منشی صاحب کی غیر تمندانہ اپیل (۱۹۰۶ ء میں ) (111) (۶۵) پھگواڑہ ریلوے اسٹیشن کے دو ملازمین کے بارے اور پھگوڑاہ کے ایک وقوعہ کے بارے مراسلات ( بدر ۲ اپریل ۱۹۰۸ء ( صفحه ۱۳) ۲۳ اپریل ۱۹۰۸ء (صفحه ۱۱) تحریر کیا کہ (۷ تا ۹ ) تائید خلافت ثانیہ کے بارے تین مضامین ( دوسری جگہ درج ہوئے ہیں ) ( ۰ اواا) جماعت احمد یہ میں رشتہ ناطہ کی مشکلات کے بارے ایک مبسوط مضمون میں منشی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب سب سے پہلے حکم دیا کہ احمدی لڑکیاں غیر احمدیوں کے عقد میں نہ دیں بلکہ احمدیوں کے ساتھ ہی ان کا عقد ہو تو جس شخص نے سب سے پہلے یہ تجویز پیش کی کہ ایک رجسٹر ہونا چاہیے جس میں قابل شادی مردو عورتوں کے نام درج ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام جس کا جس کے ساتھ نکاح کرنا چاہیں کر دیں۔اتفاق سے اسی کی لڑکی کا عقد ایک احمدی سے آپ نے کرنا چاہا لیکن وہ کب جانتا تھا کہ