اصحاب احمد (جلد 10) — Page 473
473 کتابیں رکھی جائیں۔(جن میں ) مخالفوں کے اعتراضات کا جواب دے کر اسلام کی خوبیاں سکھلائی جائیں۔اس طریق سے اسلامی ذریت نہ صرف مخالفوں کے حملوں سے محفوظ رہے گی۔بلکہ بہت جلد وہ وقت آئے گا کہ حق کے طالب سچ کی روشنی اسلام میں پا کر باپوں اور بیٹوں اور بھائیوں کو اسلام کے لئے چھوڑ دیں گے۔مناسب ہے کہ ہر ایک صاحب توفیق اطلاع دیوے کہ وہ اس کار خیر کی امداد میں کیا کچھ ماہواری مدد کر سکتا ہے۔اگر یہ سرمایہ وو ،، زیادہ ہو جائے تو کیا تعجب ہے کہ یہ سکول انٹرنس تک ہو جائے۔" اول بنیاد چندہ کی اخویم مخدومی مولوی حکیم نورالدین صاحب نے ڈالی ہے کیونکہ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ میں اس سکول کے لئے دس روپیہ ماہواری دوں گا۔اور مرزا خدا بخش نے دورو پید اور محمد اکبر صاحب نے ایک روپیہ۔۔۔۔۔۔اور میر ناصر نواب صاحب نے ایک روپیہ۔اور اللہ داد صاحب کلرک شاہ پور نے ۸/ ( یعنی نصف روپیہ ) ماہواری چندہ دنیا قبول کیا ہے۔(۹۷) منشی حبیب الرحمن صاحب کی اعانت کا ذکر کرنا یہاں مقصود ہے۔اس دوران میں عظیم ترین اعانت حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کی طرف سے ہوئی جو ایک بھاری جاگیر کی وجہ سے صاحب توفیق تھے۔حضور کی تحریر سے ظاہر ہے کہ اس زمانہ میں چند آنے بھی اہمیت رکھتے تھے۔مدرسہ کی اعانت کے سلسلہ میں مجلس منتظمہ کی طرف سے سیکرٹری صاحب کا اعلانِ شکر یہ درج کرتے ہوئے حکم کی طرف سے تحریر ہوا کہ ”مبارک ہیں وہ لوگ جو اس شکریہ کے مصداق ہیں کیونکہ مدرسہ تعلیم الاسلام حقیقت میں حضرت اقدس کی پاک اغراض میں سے ہے اور آپ ہی کا مدرسہ ہے۔اس صورت میں شکر یہ امام موعود کی طرف سے ہے پس جو امام الزمان کے پاک ارادوں کی تعمیل میں کوشاں ہوتا ہے وہ گویا اللہ تعالیٰ کے حضور سرخروئی (پاتا) ہے۔سیکرٹری صاحب موصوف نے اس موقع کے تمام احباب چندہ دہندگان میں سے صرف چار احباب کے نام تحریر کئے ہیں۔جنہوں نے بڑی عالی حوصلگی سے مجلس منتظمہ کے نمائندہ مرزا خدا بخش صاحب کا خیر مقدم کیا۔(۹۸) ،، (اور نہ صرف) خود معقول رقموں سے مدد کی بلکہ اوروں سے دلانے میں بھی کوشش کی۔“