اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 453 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 453

453 (۳) کھلی چٹھی۔منشی صاحب لکھتے ہیں : برادران اسلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته حضرت خلیفۃ اسی مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد جماعت احمد یہ میں جو اختلاف ہوا تھا، مجھے اس کے جلد مٹ جانے کی امید تھی۔مگر افسوس صد افسوس که اخبار پیغام صلح مورخه ۳۱ / مارچ ۱۴ء کو پڑھ کر یہ امید خاک میں مل گئی انا للہ وانا اليه راجعون آپ خواہ کچھ کہیں اور آپ لوگوں کے خیالات خواہ کچھ ہی ہوں مگر آپ مجھے معاف فرما دیں کہ میں یہ کہنے کے لئے تیار ہوں کہ فتنہ عظیمہ کے بانی میرے خیال میں آپ صاحبان ہی ہیں جن کے باعث قوم کا شیرازہ ٹوٹ گیا۔اگر آپ لوگ ذرا صبر کرتے اور اپنی آرزوؤں کی پیروی نہ کرتے اور تحمل اور بردباری سے کام لیتے تو آج ہم کو یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا۔میں ایک معمولی آدمی ہوں آپ صاحبان کے سامنے میری کچھ حقیقت نہیں نہ عالم ہوں نہ اہل الرائے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اول روز سے خادم نہ تعلق کا فخر حاصل ہے اور آپ کی صحبت میں بہت رہنے کا اتفاق ہوا ہے ( گو میں اس میں بھی آپ کی برابری نہیں کر سکتا ) آپ ( یعنی حضرت اقدس علیہ السلام ) کے احکام کی تعمیل میں کسی کی پرواہ نہیں کی۔آج یہ حالت دیکھ کر جو رنج اور صدمہ میرے قلب پر ہے اس کا حال خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے۔میں تو حضرت صاحب کے ہاتھوں بک چکا ہوں۔آپ کے بعد جس نے دست شفقت ہمارے سر پر رکھا، اس نے ہمارے اوپر احسان کیا۔خدا تعالیٰ حضرت مولوی نورالدین صاحب مرحوم پر اپنی رحمتوں کا نزول فرما دے جس نے ہماری سر پرستی کی۔اب صاحبزادہ صاحب حضرت میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب نے بھی ہمارے سر پر ہاتھ رکھا تو ہم کو ان کا بھی احسان مند ہونا چاہیئے۔میں آپ سے بحث مباحثہ نہیں کرنا چاہتا اور نہ میں اپنے آپ کو اس قابل سمجھتا ہوں۔۔آپ نے جو مجلس شورای منعقد فرمائی وہ بھی غلطی سے خالی نہ تھی۔اور تقبیل سے کام لیا گیا۔۔صد را انجمن۔کے ماتحت صد ہا مقامی انجمنیں ہیں۔کیا آپ نے اس مجلس شوری میں ان کو مدعو کیا اور ان سے مشورہ کیا ؟ ان کو اطلاع دی ؟ ضرورت تھی کہ آپ کشادہ دلی کے ساتھ اپنی آرزوؤں کو بالائے طاق رکھ کر تمام انجمنوں کو باقاعدہ انعقاد مجلس شورای کی اطلاع دیتے اور ان کے پریذیڈنٹ ( اور ) سیکرٹری کو مدعو کرتے۔جو کچھ سے مجلس شورای میں طے پاتا وہ واپس جا کر اپنی مقامی انجمنوں میں پیش کرتے اور نتیجہ سے آپ کو اطلاع دیتے پھر ایک رائے قائم ہو جاتی اور یہ رائے قوم کی متفقہ رائے ہوتی اب آپ سوچ لیں کہ آپ نے