اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 444 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 444

444 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عموم آلود ہانہ کا بنا ہوا انرم نری کا سرخ رنگ کا جوتا پہنا کرتے تھے۔اور منشی حبیب الرحمن مرحوم کی یہ عادت تھی کہ وہ عمو مالود ہانہ سے جو تا بنوا کر پیش کیا کرتے تھے۔ان کے گاؤں میں دیمک کی کثرت تھی۔اکثر کا غذات اور کتب ان کے تباہ ہو گئے یہ خط بھی ایک دو جگہ سے صاف نہیں پڑھا جاتا۔البتہ یہ سمجھ میں آتا تھا کہ اس مرتبہ جو جوتا آپ نے پیش کیا اس میں بعض نقائص رہ گئے۔تاہم حضور نے اولا اس کی خوبی اور عمدگی کو بیان کیا تا کہ جس اخلاص اور محبت سے تیار کرا کر انہوں نے بھیجا تھا اس کو ٹھیس نہ لگے اور اس میں جو واقعی نقص رہ گیا تھا وہ اس وجہ سے کہ اصل غرض پوری نہ ہو سکتی تھی اس کا بھی ذکر فر ما دیا ، ( د ) دونوں عکسوں اور مکتوبات احمدیہ میں درج شدہ کا مقابلہ کر کے خاکسار مؤلف نے اس مکتوب کی تعمیل کرنے کی کوشش کی ہے۔وجو ہات تکمیل حاشیہ میں درج کی گئی ہیں۔تکمیل شدہ مکتوب یوں ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم مجی عزیزی اخویم منشی حبیب الرحمن صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ محمدہ ونصلی جوتا جو آپ نے بھیجا ( تھا) بہت عمدہ تھا۔صرف اس قدر فرق تھا کہ وہ کچھ مردانہ قطع تھی۔دوسرے جوئی میں کرا) جیسا کہ زنانہ جوتیاں ہوا کرتی ہیں نازک بھی است) کا المان کم ہے۔اور بندر ایک (ایک) جو ۱۳۱۲ ۱۱ اس پہلی جوتی کے چھوٹی ہے اور (اس کا ناپ و پلی اتھا) والسلام ☆ خاکسار غلام احمد از قادیان جوتے کی عمدگی کا ذکر کر کے حضور کا تحریر فرمانا کہ صرف اس قدر فرق تھا کہ وہ کچھ مردانہ قطع تھی۔ظاہر کرتا ہے کہ مردانہ قطع ہونا نقص تھا۔گویا یہ جوتا زنا نہ بھجوایا گیا تھا۔عمومی رنگ میں بات ٹھیک ہے کہ منشی حبیب الرحمن صاحب حضور کے ذاتی استعمال کے لئے جوتا بھجواتے تھے۔لیکن زیر ذ کر زنانہ جوتے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔اس مضمون میں منشی کظیم الرحمن صاحب نے بھی تحریر کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی خدمت آپ ( والد صاحب) کے لئے مایہ نا تھی چنانچہ ابتداء میں لدھیانہ کا جوتا جو حضور پہنا کرتے تھے۔خرید کر اکثر حضور کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔“