اصحاب احمد (جلد 10) — Page 434
434 منشی صاحب کے اور مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب کے درمیان خط و کتابت اور معاہدہ علم میں آنے پر کچھ اور ہی ظاہر ہوا۔گویار یو یو کو ہمارے امام صادق اور رسول برحق کی پاک تعلیم ، الفاظ، خیالات، اعتقادات ( اور ) الہامات سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔اور ہم کو جو فدائے مسیح موعود ہیں۔خوش کرنے یا بالفاظ دیگر (ان کے) آنسو پونچھنے کے واسطے ایک ضمیمہ شامل کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے۔جس کی اشاعت ہم خادمان ہی تک محدود رہے گی۔اس قدر معلوم ہونے کے بعد خاکسار کے لئے ماتم تھا اور ہے۔میں اپنی اس حالت کو ظاہر نہیں کر سکتا جو یہ خبر سن کر ہوئی۔۔” میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر یہ لوگ اس زمانہ کے رسول کے خیالات ارتعلیم اور وہ کلام ربانی جو اس رسول پر نازل ہوتا ہے۔چھوڑیں گے تو وہ اور کونسی باتیں ہیں جن کی اشاعت کرنا چاہتے ہیں؟ کیا اسلام کوئی دوسری چیز ہے۔جو اس رسول سے علیحدہ ہو کر بھی مل سکتا ہے؟ جس نے احمد کو چھوڑا اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی چھوڑا۔وہ ہرگز ہرگز اخرين منهم لما يلحقو ابهم (۸۲) کا مصدق نہیں۔کیا اس خدائی سلسلہ کی اشاعت انشاء اللہ خاں کی امداد پر منحصر ہے؟ ریویو پہلے کیا تھا۔اور اب کیا ہے؟ یہ ترقی اور قبولیت منشی انشاء اللہ خاں کی وجہ سے ہوئی ہے؟ ہر گز نہیں۔خدا تعالیٰ ہی سب کچھ کر رہا ہے اور حضور کی دعائیں ہیں اور بس۔ریو یوصرف اس واسطے ہے کہ یورپ اور امریکہ میں عیسائیوں کے بناوٹی خدا کو انسان بنا دے جس نے بالآخر وفات پائی۔کیا یہ عقیدہ ظاہر کرنے کے واسطے ان کے لئے کوئی راہ ہے جبکہ وہ مسیح موعود کی پاک تعلیم کو ریویو سے علیحدہ کرلیں گے؟ کیا ریویو کے مضامین کی قبولیت اور قابل تعریف ہونا جناب ایڈیٹر صاحب و میجر صاحب نے اپنی ذات تک ہی محدود سمجھ لیا ہے؟ اگر ان کا ایسا خیال ہے تو غلط ہے بلکہ یہ سب کچھ حضور ہی کی برکت کا نتیجہ ہے۔یوں ان کو اختیار ہے کہ وہ علیحدہ رسالہ جاری کر دیں لیکن وہ بھی دوسرے اسلامی رسالوں کی طرح بے مغز اور بے برکت ہوگا احمدی فرقہ کا رسالہ اسی وقت تک احمدی ہے جب تک احمد مسیح موعود کی پاک تعلیم اپنے ساتھ رکھتا ہے ریویو کے زیادہ خریدار پیدا کرنے کا یہ منشاء ہے۔کہ اسلام یا یوں کہو کہ مسیح موعود کی تعلیم کی اشاعت ہو اگر یہ نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں خدا کے لئے ( حضور ) منیجر ریویو آف ریلیجیز کو حکم دے دیو ہیں کہ وہ اپنے ان خیالات کو چھوڑ دیں ورنہ جو رسالہ یا کتاب یا اخبار ہمارے سردار حضرت مسیح موعود کے ذکر اور تعلیم سے خالی ہے ہو ہمارا نہیں ہم کو اس ( رسالہ) کی ضرورت ہے جس میں حضور کا ذکر ہو اور تعلیم ہو جو ہم