اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 430 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 430

430 پیش کیا۔اس وقت مسجدا بھی چھوٹی تھی اور شاید پانچ چھ افراد ایک صف میں کھڑے ہو سکتے تھے۔جو اس وقت کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔حضور نے پان لے لیا۔لیکن اسے چھوٹا کرنے کوفر مایا اور یہ بھی کہا کہ یہ پان ہے یا ہاتھی کا کان۔میں حضور کے قدموں میں بیٹھ گیا۔اور پان پیش کر نیکی یہی غرض تھی پان کو چھوٹا کرنے کی اور کوئی سبیل مجھے نظر نہ آئی سوائے اس کے کہ اسے تو ڑ کر منہ میں ڈالتا گیا۔پھر پیش کیا تو حضور نے منہ میں ڈال لیا اور جزاکم اللہ فرمایا۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سے میری بہت محبت اور بے تکلفی تھی۔آپ مجھے یا حبیب“ کہہ کر پکارتے تھے۔اور جب پان کھانا ہوتا تو مجھے فرماتے کہ اس بدعت کا مزہ ہمیں بھی چکھا ئیں اور میں پان بنا کر پیش کر دیتا۔اس روز جو میرے حضور کی خدمت میں پان پیش کرنے پر حضور نے جزاکم اللہ فرمایا تو میں نے مولوی عبدالکریم صاحب کی طرف دیکھا لیکن آپ نے کچھ شرمساری کی وجہ سے آنکھیں نیچی کر لیں۔تقریر ختم کر کے جب حضور اندرونِ خانہ تشریف لے گئے تو مولوی صاحب نے سیدھے میرے پاس آ کر کہا کہ آج کے بعد میں پان کو بدعت نہیں کہوں گا۔جس کے پیش کرنے پر خدا کا مسیح جزاکم اللہ کہیں اور ہم بدعت کہیں۔میرا مقصد اس کے بیان کرنے سے یہ ہے کہ حضور بعض اوقات مزاحیہ کلمات بھی استعمال فرما لیتے تھے۔آج کل کے پیروں وغیرہ کی طرح نہیں تھے۔ہم حضور کے ساتھ آزادانہ گفتگو کر لیتے تھے۔دوسرے ادھر حضور کی زبان سے بات نکلی اور ادھر خدام اس پر عمل کر لیتے تھے۔چنانچہ جزاکم اللہ کہنے پر مولوی صاحب نے بدعت“ کہنے کے عمل میں فوراً تبدیلی کر لی۔(۱۰) بڑے باغ کی نگہداشت : مہمان خانہ کی جگہ مٹی کا ایک بڑا تو دہ ہوتا تھا۔ایک بار میں نے عرض کی کہ یہ جگہ ہموار ہو جائے تو کچھ ترکاری وغیرہ مہمانوں وغیرہ کے لئے اس جگہ ہو جایا کرے۔فرمایا ہاں۔آئیے آپ کو دکھا ئیں حضور نے مجھے لے جا کر اپنا تمام باغ دکھایا۔اور اس کی حدود و غیرہ بھی دکھا ئیں اور باغ کی سیر کرائی اور جو پھول دار پودے لگائے ہوئے تھے۔وہ بھی دکھائے۔باغ میں ایک چبوترہ سا تھا۔وہاں حضور بیٹھے بھی تھے۔میں نے عرض کیا کہ باغ میں بہت سے درخت فضول ایستادہ ہیں اگر یہ نکالے جائیں تو سارا باغ درست ہو جائے اور باغ کی نشو و نما کے لئے بھی بعض باتیں عرض کیں حضور نے میرے مشورہ کو بہت پسند کیا اور فرمایا کہ ہمیں تو فرصت نہیں کون کرے؟ یوں کریں کہ کوئی نوکر آپ اچھا سارکھوادیں جو کام کرتا رہے۔وقتاً فوقتاً آپ دیکھ لیا کریں۔میں نے عرض کیا کہ بہت بہتر ہے۔میں ابھی نوکر کی جستجو میں ہی تھا کہ حضرت میر ناصر نواب صاحب ( گویا مستقل طور پر ) قادیان تشریف لے آئے۔پھر ایک دفعہ قادیان آنے پر میں نے حضور سے اس باغ کے متعلق ذکر کیا تو فرمایا کہ میر صاحب باغ