اصحاب احمد (جلد 10) — Page 429
429 کہ کسی آدمی کو باہر سے بلا لیتا ہوں۔اور میرے بار بار کے اصرار کے باوجود خود ہی حضور نے ایک شخص کو بلا لیا۔کنستروں کو کھول کر طسلے میں الٹوایا گیا۔تو کچھ حصہ تو ٹھیک نکلا۔بقیہ سارا سرخ زنگ آلودہ نکلا۔میں نے عرض کیا کہ پیپوں کی وجہ سے زنگ سے خراب ہو گیا ہے۔فرمایا ٹھیک ہے۔اور دریافت فرمایا کہ اس کے منگوانے کی کیا صورت ہوسکتی ہے۔میں نے عرض کیا کہ تانبے کی گاگروں کو قلعی کروا کے اس میں بھر کرٹانکہ سے منہ بند کر کے بھیجتے ہیں۔فرمایا درست ہے۔(۶) کامل اتباع مطلوب ہے۔ایک دفعہ قادیان میں ایک مجلس میں کسی مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ محض بیعت کر لینا ہی غرض نہیں میں تمہیں مسیح موعود بنانے آیا ہوں۔( یعنی محض بیعت کر لینے کو کافی نہ سمجھا جائے بلکہ حضوڑ کی کامل متابعت کی کوشش کرنا چاہیئے۔مؤلف ) (۷) ضیاع وقت کا قلق۔میں نے ایک دفعہ قادیان میں حضور سے سنا۔فرمایا کہ قضائے حاجت میں وقت ضائع ہونے پر بھی ہمیں بہت قلق ہوتا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ یہ وقت بھی دینی کاموں کی سرانجام دہی میں صرف ہو۔(۸) ایک دفعہ میں قادیان میں تھا۔اس وقت کی بات ہے کہ حضور کسی تصنیف میں بہت مصروف تھے۔آپ کی اجازت سے آپ کے سامنے دستر خوان پر کھانا رکھا گیا۔ظہر کی اذان ہونے پر حضور تحریر کے کام سے فارغ ہوئے اور کچھ بھوک اور کمزوری محسوس کرنے پر کھانے کے بارے دریافت کیا معلوم ہوا کہ برتن صاف پڑے تھے اور روٹیاں بھی موجود نہ تھیں۔اس لئے یہ سمجھا گیا کہ حضور نے کھانا تناول فرمالیا ہے۔اور خادمہ خالی برتن اٹھا لے گئی۔اب حیرانی ہوئی کہ کھانا کہاں گیا۔اور دیکھ بھال پر روٹی کے کچھ ٹکڑے اور چونڈی ہوئی کچھ ہڈیاں ایک کونے میں پڑی ملیں۔جس سے اندازہ ہوا کہ یکی تمام کھانا کھا گئی ہے اور حضور کو تصنیف کے استغراق میں اس کا علم نہیں ہوا۔(۹) حضرت کی خدمت میں پان پیش کرنا۔ابتدائی زمانہ میں قادیان میں پان نہیں ملتے تھے۔بلکہ بٹالہ، امرتسر یا لاہور وغیرہ سے منگوانے پڑتے تھے۔حضرت ام المومنین پان کی عادی تھیں۔اس لئے میں ایک دو ڈھولی پان ہمراہ لے جایا کرتا تھا۔خود بھی عادی ہونے کی وجہ سے میں اپنا پا ندان بھی ساتھ رکھتا تھا۔ایک دفعہ میرا قیام گول کمرہ میں تھا۔ایک روز بعد نماز ظہر حضور نے مسجد مبارک میں تقریر شروع کر دی۔میں نے حضور کے قدموں میں بیٹھنے کا یہ طریق اختیار کیا کہ گول کمرہ میں جلدی پہنچ کر ایک بڑے سے بیگمی پان کے پتہ کو خوب صاف کر کے پان لگایا اور اس میں الائچیاں وغیرہ ڈال کر بیڑہ ہاتھ میں لئے مسجد میں حضور کے قریب پہنچا اور حضور کی خدمت میں