اصحاب احمد (جلد 10) — Page 427
427 روایات منشی حبیب الرحمن صاحب ماخذ کتاب میں ذکر کیا گیا ہے کہ روایات کے سلسلہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے ۱۸ فروری ۱۹۲۴ء کو ایک مکتوب منشی صاحب کو تحریر کیا تھا۔منشی صاحب نے اپنے بیٹے شیخ عبدالرحمن صاحب کو روایات لکھوائی تھیں۔جہاں ذیل کی روایات میں کسی اور ماخذ کا ذکر نہیں وہ بواسطہ شیخ عبدالرحمن صاحب حاصل ہوئی ہیں۔(۱) مرزا احمد بیگ کا انتقال- مرز احمد بیگ کی وفات سے تین روز پہلے جب حضور نماز کے لئے تشریف لاتے تو فرماتے کہ کوئی نشان ظاہر ہونے والا ہے۔میں قادیان ہی میں تھا دوسرے روز بھی یہی فرمایا۔تیسرے روز جب حضور مسجد مبارک میں نماز ظہر سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ کوئی نشان ظاہر ہونے والا ہے۔آسمان پر کھچڑی سی پک رہی ہے۔تھوڑی دیر بعد (حضور کے عمزاد ) مرز انظام الدین کے گھر سے رونے کی آواز آئی۔معلوم ہوا کہ مرزا احمد بیگ کا انتقال ہو گیا ہے۔(۷۹) (۲) امین مرزا محمود احمد صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کی ختم قرآن کی امین کی تقریب پر حضرت اقدس علیہ السلام کی طرف سے مجھے بھی بلایا گیا تھا۔اور میں اس مجلس میں حاضر تھا جس میں یہ نظم پڑھ کر سنائی گئی تھی۔احباب سارے آئے تو نے یہ دن دکھائے تیرے کرم نے پیارے یہ مہرباں بلائے یہ دن چڑھا مبارک مقصود جس میں پائے یہ روز کر مبارک سُبحان من يراني مہان جو کر کے الفت آئے بصد محبت دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقت رخصت یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی ( از مؤلّف ) اس پرسوز اور ایمان افروز ، دعائیہ نظم میں یہ اشعار بھی ہیں: تو نے یہ دن دکھایا، محمود پڑھ کے آیا دل دیکھ کر یہ احساں تیری ثنائیں گایا صدشکر ہے خدایا صد شکر ہے خدایا یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی لخت جگر ہے میرا محمود بندہ تیرا دے اس کو عمر ودولت کر دور ہر اندھیرا دن ہوں مرادوں والے پر نور ہو سویرا یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی اس کے ہیں جو برادر ان کو بھی رکھیو خوشتر تیرا بشیر احمد، تیرا شریف اصغر