اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 426 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 426

426 تصور کرتے ہیں۔عدالت مدعا علیہم کے اس خیال کو غلط قرار دیتی ہے۔مرزا صاحب کے مرید ان اہل سنت جماعت سے خارج نہیں ہو سکتے ہیں۔اس سے ثابت ہوا کہ فریقین مقدمہ ہذا ایک ہی فرقہ اہل سنت جماعت کے متعلق ہیں۔مدعی ہرگز دین اسلام سے باہر نہیں ہوا۔بدیں وجہ مدعی نے اپنے حقوق متولی ہونے کو ہرگز رائل نہیں کیا۔مدعی میں کوئی ایسا نقص نہیں ہوا ہے۔جس کی وجہ سے وہ مسجد متنازعہ کے متولی ہونے سے علیحدہ کیا جاسکے۔” جب یہ ثابت ہو گیا کہ فریقین اہل سنت جماعت ہیں۔اب دیکھنا اس امر کا ضروری ہے کہ آیا مدعی متولی مسجد مدعاعلیہم کو نماز پڑھنے سے روک سکتا ہے۔شہادت پیش کردہ مدعی سے بھی بخوبی ثابت ہے کہ مدعی کسی * مسلمان کو نماز پڑھنے سے روک نہیں سکتا ہے۔" حسب روئداد بال نتیجه تحقیقات یہ ہے کہ مدعی متولی مسجد ہے۔اس کو امام اور موذن کے مقرر کرنے کا ہر طرح سے اختیار ہے۔مدعا علیہم فرداً فرداً اپنی اپنی نماز جس طرح چاہیں مسجد متنازعہ میں پڑھ سکتے ہیں۔مگر علیحدہ امام و مؤذن مقرر نہیں کر سکتے۔اور نہ جماعت بالمقابل امام مقرر کردہ مدعی متولی کے کھڑے کر سکتے ہیں لہذا حکم ہوا کہ ڈگری استقرار یہ اور حق مدعی نسبت جملہ مدعا علیہم بلا خرچہ اس امر کی دی جاوے کہ مدعا علیہم امام و موذن مقرر کردہ مدعی متولی مسجد کے سوائے کسی دیگر مؤذن سے اس مسجد میں اذان نہیں دلا سکیں گے۔اور نہ امام مقرر کردہ مدعی کے جماعت کے بالمقابل جماعت کھڑی کر سکیں گے۔مدعاعلیہم کو اختیار ہے کہ فرداً فرداً اپنی اپنی نماز جس طرح چاہیں مسجد متنازعہ میں پڑھ سکتے ہیں۔مدعی ان کو نماز پڑھنے سے روکنے کا مجاز نہیں ہو گا۔فردا فردا کے واسطے لازمی نہیں ہے کہ امام کے پیچھے ہی نماز پڑھیں۔د مثل داخل دفتر ہوئی۔فریقین حاضر حکم سنایا گیا۔مورخه ۶ مگر ۱۹۶۲ بکرمی سہو کتابت سے کسی کو ” سے لکھا گیا ہے۔الحکم ۴۲ / دسمبر ۱۹۰۵ء ( صفحه ۴۳) بدر ۱۲ جنوری ۱۹۰۶ء میں مرقوم ہؤا۔،، کپورتھلہ میں جو مخالفین نے ایک مسجد میں سے احمدیوں کو نکالنے کی ٹھان کر مقدمہ کھڑا کر رکھا تھا، اس میں مسجد احمد یوں کومل گئی اور مخالفوں کا کوئی دخل و تعلق نہ رہا۔فالحمد لله (صفحہ ۸- زیر عنوان مقدمہ کپورتھلہ)