اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 415 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 415

415 بیت ہمراہ تھے اور سب بھو کے تھے اور بھی بہت سے آدمی ہمراہ تھے۔حضرت میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی نے مجھ سے دریافت کیا کہ یہاں (ریلوے اسٹیشن پر ) کچھ کھانے کو بھی مل سکتا ہے۔میں گیا اور اپنے ایک واقف بابو کے ذریعہ دکاندار کو مع سامان کثیر ہمراہ لے آیا جو سب نے حسب ضرورت لیا۔مجھے اس وقت بہت افسوس ہوا کہ اگر میں کسی قدر کھانا بھی ہمراہ لاتا تو اچھا ہوتا۔اس کے بعد میں نے یہ قاعدہ مقرر کر لیا ہے کہ بزرگان دین میں سے جب کوئی اس راستہ سے سفر کر رہا ہو اور مجھے اطلاع ہو جائے میں ضرور کچھ نہ کچھ کھانا لے کر اسٹیشن پر جاتا ہوں خواہ کوئی وقت ہو ( قلمی کا پی صفحہ ۵۱ ۵۲) * منشی حبیب الرحمن صاحب نے بواسطہ شیخ عبدالرحمن صاحب بیان کیا کہ حضرت اقدس جب لدھیانہ تشریف پر کر لاتے تو میں روزانہ ٹرین پر پھگوڑاہ سے لدھیانہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوتا اور شام کوٹرین سے پھگواڑہ پہنچ کر حاجی پور پہنچ جاتا۔حضور کی قادیان کو واپسی کے موقع پر پھگواڑہ اسٹیشن پر آپ کے قافلہ کوکھانا پیش کرتا اور جالندھر تک ساتھ جاتا اور وہاں سے برتن وا پسی لے آتا۔کبھی برتن قادیان چلے جاتے تو بعد میں مل جاتے۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کے مصدقہ مضمون نوشته منشی تنظیم الرحمن صاحب میں بیان ہوا ہے کہ ایک دفعہ حضور دہلی لدھیانہ سے قادیان واپس تشریف لے جارہے تھے۔پہلے جس ٹرین سے روانگی تھی اس کی بجائے دوسری ٹرین سے روانگی تھی اس کی بجائے دوسری ٹرین سے روانگی کا فیصلہ ہوا حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب حضرت اقدس علیہ السلام سے اجازت حاصل کر کے پہلی ٹرین سے پھگوڑاہ آگئے تھے۔تا کہ بنگہ کریام وغیرہ اردگرد سے آمدہ احمدی جماعتوں کو مطلع کر سکیں کہ حضور دوسری ٹرین سے تشریف لائیں گے۔چنانچہ آپ نے اطلاع دی دوسری گاڑی کے آنے میں ابھی دو گھنٹے کا وقفہ تھا۔آپ نے ریلوے اسٹیشن سے گوشت وغیرہ کا انتظام کیا اور ان احباب کو بخوشی حاجی پور لے گئے فوڈ اسنور کرم کروادیئے اور دیکھیں چڑھواد میں اور ایک قلیل عرصہ میں چار پانچ سو احباب کو پر تکلف کھانا کھلا کر وقت پر اسٹیشن پہنچا دیا۔ٹرین آنے پر سب احباب حضور کی زیارت سے مشرف ہوئے اور آپ نے حضور کی خدمت میں اپنی با میچی کے پھل پیش کئے اور جالندھر تک حضور کے ہمرگاب رہے اور وہاں سے واپس آئے۔یہاں یہ بھی مرقوم ہے کہ حضور جب پھگواڑہ اسٹیشن سے گزرتے آمد ورفت کے وقت منشی صاحب کو اطلاع ہوتی آپ اس طرف جالندھر سے لدھیانہ تک اور اس طرف لدھیانہ یا پھلور سے جالندھر تک حاضر رہ کر حضور کی صحبت سے فیض یاب ہوتے ( الحکم ۲۱ اگست ۱۹۳۵ ء صفحہ ۱۰ کالم اوم - وے ستمبر صفحہ ۵ کالم ) شیخ عبدالرحمن صاحب نے ایسے مواقع کے بارے یہ بھی بتایا کہ ان کو بھی یاد ہے کہ والد صاحب ہمیشہ اپنیسا ری اولاد کے پھگواڑہ اسٹیشن پر پہنچنے کا انتظام کرتے اور ٹرین میں حضور بعض دفعہ چھوٹے بچوں کو گود میں بٹھاتے اور بڑے بچوں کے سروں پر دست شفقت پھیرتے۔اس طرح یہ بچے حضور کی برکات و فیوض سے بہرہ ور ہوتے۔