اصحاب احمد (جلد 10) — Page 397
397 کے ذریعہ اہل مذہب کو ان امور کا پابند کیا جائے۔(۵۰) حقہ سے حضرت اقدس کو نفرت منشی صاحب لکھتے ہیں کہ : جالندھر کی رہائش میں حضور نماز مغرب زنانہ مکان میں پڑھ رہے تھے حضرت ام المومنین بھی نماز میں مصروف تھیں۔کسی خادمہ نے حقہ رکھا اور کسی کام کو چلی گئی۔آگ فرش پر گر گئی تو فرش کا کچھ حصہ جل گیا۔نماز سے فارغ ہو کر دیکھا اور بجھایا گیا ) اس وقت حضور نے حقہ پینے والوں سے ناراضگی سے اظہار نفرت فرمایا تو نیچے تک اطلاع پہنچی۔کئی آدمی حقہ پیتے تھے۔اور ان کے حقے مکان میں موجود تھے۔جب اس ناراضگی کا ان کو علم ہوا تو سب حقہ والوں نے اپنے حقے تو ڑ دیئے اور پینا ترک کر دیا۔اس دن سے جماعت کو بھی معلوم ہوا کہ حضور حقہ کو نا پسند فرماتے ہیں۔تو بہت سے باہمت احمدیوں نے حقہ پینا ترک کر دیا۔( قلمی کا پی صفہ ۲۲) * ایک رمضان شریف کا آخری عشرہ قادیان میں گزارنا منشی حبیب الرحمن صاحب لکھتے ہیں کہ : ایک دفعہ میں نے رمضان شریف کا آخری عشرہ قادیان میں گذارا۔ان دنوں میں حضور علیہ السلام کو تپ لرزہ یومیہ آتا تھا۔ظہر کے بعد لرزہ سے تپ ہو جاتا تھا۔اس لئے ظہر کے وقت حضور جماعت میں شریک ہوا کرتے تھے اور باقی نمازوں میں شریک نہیں ہو سکتے تھے۔ظہر سے پہلے کبھی کبھی بانتظار نماز یاں بیٹھتے تھے۔میری عادت تھی کہ میں ضرور اس جگہ پہنچ جایا کرتا تھا۔جہاں حضور بیٹھتے تھے۔کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں دور رہا ہوں اگر ایسا اتفاق ہوتا بھی جو صرف ایک دفعہ ہوا تو خدا تعالی کوئی نہ کوئی سامان کر دیتا کہ میں قریب پہنچ جاؤں۔غرض جب حضور ظہر کی نماز کے واسطے تشریف لاتے میں طبیعت کا حال دریافت کرتا تو فرماتے کہ سردی معلوم ہورہی ہے۔بعض دفعہ فرماتے کہ نماز پڑھو۔سردی زیادہ معلوم ہورہی ہے۔مگر باوجود علالت کے حضور روزہ برابر رکھتے تھے۔ایک دن میں نے عرض کیا کہ آپ کی تکلیف ہے اور کئی دن ہو گئے ہیں۔اگر روزہ افطار کر دیا (یعنی بوقت بخار کھول یا تو ڑ لیا) کریں (تو بہتر ہو ) فرمایا کہ روزہ کی وجہ سے کچھ تکلیف محسوس نہیں ہوتی ہے بلکہ ☆ حضرت اقدس نے جالندھر میں منشی حبیب الرحمن صاحب کو نشی ظفر احمد صاحب کو بھجوا کر بلوایا تھا۔یہ روایت الگ درج ہے۔یہ۱۸۹۲ء کی بات ہے۔اسی قیام جالندھر کے سلسلہ میں یہ حقہ والی روایت منشی صاحب نے درج کی ہے۔