اصحاب احمد (جلد 10) — Page 396
396 میں کسی خونی مہدی کی آمد کا قائل نہیں میرا دعوای ایسے مسیح موعود ہونے کا ہے۔جو حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح غربت کے ساتھ زندگی بسر کرے گا۔اور نرمی اور صلح کاری اور امن کے ساتھ خدائے ذوالجلال کا چہرہ دکھلائے گا۔میرے ماننے والوں کی تعداد بڑھنے سے ایسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مان لینا ہی ایسے مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔میرے بڑے اصول پانچ ہیں : اول : اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک اور ہر نقص موت وغیرہ سے پاک سمجھنا۔دوم: منجانب اللہ قائم شدہ سلسلہ نبوۃ کا خاتم اور آخری شریعت لانے والا اور نجات کی حقیقی راہ بتلانے والاحضرت سیدنا ومولانامحمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین رکھنا۔سوم محض ولائل عقلیہ اور نشانات سماویہ سے دین اسلام کی دعوت دینا اور جہادکو اس زمانہ کے لئے ممتنع سمجھنا۔چهارم : گورنمنٹ کے خلاف باغیانہ خیالات نہ رکھنا۔پنجم : بنی نوع انسان سے ہمدردی رکھنا صلح کاری اور امن کا مؤید ہونا اور نیک اخلاق پھیلانا۔نیز حضور رقم فرماتے ہیں کہ ہماری جماعت نیک نام معزز عہدوں پر ممتاز افراد، رؤسا اور ان کے خدام واحباب ، تاجران و وکلاء ، نو تعلیم یافتہ انگریزی خواں اور علماء، فضلاء اور دیگر شرفاء یا غریب طبع سجادہ نشینوں وغیرہ ہم پرمشتمل ہے۔(۴۹) حضور نے اس درخواست کے ساتھ تین سوسولہ اسمائے مریدین شامل فرمائے تا کہ بلاوجہ کوئی شخص جماعت احمد یہ کی آبروریزی کے لئے دلیری نہ کر سکے۔ان میں نمبر ۶۳ اپر و منشی حبیب الرحمن صاحب رئیس حاجی پور کپورتھلہ کا اسم گرامی بھی شامل ہے۔* کتاب ” آریہ دھرم میں منشی صاحب کا ذکر آٹھ نوصد مسلمانوں کی طرف سے جن میں ”میاں حبیب الرحمن صاحب مالک و نمبر دار موضع حاجی پور سمیت کپورتھلہ کے ایک درجن احباب شامل تھے۔۲۲ ستمبر ۱۸۹۸ء کو ایک اشتہار میں پادری صاحبان وغیر ہم کو نوٹس دے کر توجہ دلائی گئی کہ ہم سب پر فرض ہے کہ مذہبی مباحثات میں ناحق دوسروں کا دل نہ دکھایا جائے اور ایسی کتابوں کے حوالے پیش نہ کئے جائیں جو فریق مقابل کی مسلمہ نہ ہوں یا ایسے اعتراضات پیش نہ کئے جائیں جو خود اعتراض کنندہ کے مذہب پر وارد ہوتے ہوں۔نیز حکومت کی خدمت میں بہ تاکید گزارش کی گئی تھی کہ قانون یا سرکلر اس فہرست میں دیگر آٹھ احباب کپور تھلہ کے نام بھی شامل ہیں۔منشی صاحب کا نام صفحہ ۲۴ میں کالم اپر درج ہے۔