اصحاب احمد (جلد 10) — Page 393
393 میرے سامنے مباہلہ کے لئے نہیں آئیں گے یہ تو آگئے۔جب انہوں نے آدھ پون گھنٹہ تقریر میں گزار دیا تو مولوی عبدالحق صاحب مباہلہ کے لئے آگے بڑھے۔حضور نے مباہلہ کی وہ دعا انہی الفاظ میں زور سے پڑھی جو مولوی عبدالحق صاحب نے لکھ کر دئے تھے۔شیخ نوراحمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں بھی پاس ہی کھڑا تھا۔حضور نے اور سب نے اور میں نے بھی الفاظ دعا سن کر دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔حضور کی دعا کا لوگوں پر بہت اثر ہوا۔غزنوی مولویوں اور ان کے معتقدین میں سے ایک شخص چیخ مار کر روتے ہوئے حضور کے قدموں میں آپڑا اور اس نے بیعت کے لئے عرض کیا یہ نظارہ دیکھ کر تمام غزنویوں اور ان کے معتقدین کے ہوش اڑ گئے اور مولوی محمد حسین صاحب تو خدا جانے کہاں غائب ہو گئے۔اس پر لوگوں کو یقین ہوا کہ حضرت مرزا صاحب کی بات سچی ہوئی کہ مولوی محمد حسین صاحب مباہلہ کے لئے نہیں آئیں گے۔عبدالحق صاحب غزنوی نے کوئی دعا نہ کی۔مولویوں نے پھر شور مچایا کہ ہم سے بحث ہونی چاہئیے۔اس پر حضور نے ایک اشتہار شائع کیا کہ جن مولوی صاحب نے بحث کرنی ہو وہ کوئی مقام تجویز کریں ہم تیسرے روز یہاں سے چلے جائیں گے۔خواجہ یوسف شاہ صاحب رئیس امرتسر نے مولویوں کو کہا کہ اب بحث کیوں نہیں کرتے ؟ جب وہ چلے جائیں گے تو شور مچاؤ گے کہ مرزا صاحب بھاگ گئے۔انہوں نے جواب دیا کہ ہم بحث کریں گے پہلے ہم باہم مشورہ کر لیں لیکن مولویوں کو مولوی محمد حسین صاحب نے ڈرا رکھا تھا کہ تم میں سے کوئی بھی مرزا صاحب سے بحث نہیں کر سکتا۔ذراسی دیر میں وہ تمہیں قابو کر لیں گے اور ایک دو باتوں میں تمہارا ناطقہ بند کر دیں گے۔بہتر ہے کہ کسی بہانہ سے بحث کو ٹال دیا جائے۔چنانچہ یہ علمائے امرتسر مسجد محمد جان کے نیچے کے حجرہ میں جابیٹھے اور مؤذن سے دروازہ باہر سے مقفل کرواتے ہوئی اسے ہدایت دی کہ جو کوئی ہمارے متعلق پوچھے تو کہہ دینا کہ وہ کہیں دعوت میں گئے ہیں۔خواجہ صاحب ان مولویوں کی تلاش میں اس مسجد میں آئے تو ان کو مؤذن نے یہی جواب دیا۔وہ مولوی عبدالجبار صاحب کے پاس گئے تو ان سے بھی یہی جواب ملا۔اس پر خواجہ صاحب نے کہا کہ آج کا دن بحث کا تھا اور سب مولوی دعوت میں چلے گئے یہاں کوئی بھی نہیں۔مرزا صاحب کے جانے کے بعد مولوی شور مچائیں گے مولوی کب بحث کریں گے؟ یہ معلوم کرتے ہوئے کہ کہاں دعوت ہے۔اس مسجد میں آگئے کسی سے مولویوں کے اس حجرہ میں بند ہونے کا ان کو علم ہوا تو انہوں نے مؤذن سے چابی لے کر اسے کھولا تو دیکھا کہ سب مولوی اس حجرہ میں بیٹھے ہیں۔مولویوں کا رنگ زرد ہو گیا اور وہ کانپنے لگے۔خواجہ صاحب نے کہا کہ آج بحث کا دن ہے اور تم چھپ کر بیٹھے ہو اور کل مرزا صاحب چلے جائیں