اصحاب احمد (جلد 10) — Page 378
378 برہان الدین صاحب اور گوشہ مغرب و جنوب میں حضرت پیر سراج الحق صاحب، اور ان کے اگلی طرف مولانا سید (۳۸) محمد احسن صاحب بیٹھے۔کوائف جلسہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کتاب تو ضیح المرام میں ملائکہ کے بارے جو باتیں بیان کی ہیں، ان پر مولویوں کے بیان کردہ اعتراضات پر حضور نے شرح وبسط سے تقریر فرمائی۔سید محمد احسن صاحب پر اس وقت ایسی رقت طاری ہوئی کہ اس سے حاضرین کے دل پکھل گئے اور سب پر عجیب کیفیت طاری ہوئی۔بعض کے دلوں میں جو شبہات تھے اس تقریر سے رفع ہو گئے۔حضور نے یہ بھی بیان فرمایا کہ انبیاء کے دعاوی کی طرح میرا دعوی بھی ارشاد الہی پرمبنی ہے۔میں اپنے دعوی میں صادق ہوں حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب نے قرآن کریم سے بتایا کہ مثل دیگر انبیاء کے حضرت عیسی موت کا پیالہ پی کر اس فانی دنیا سے دار النعیم میں پہنچ گئے ہیں اور احادیث میں آمد ثانی کے بارے میں نزول کا لفظ استعارہ استعمال ہوا ہے۔(۳۹) حضور نے ایک تقریر میں علمائے زمانہ کی چند ایک باتوں کا جواب دیا جو ان کے نزدیک بنائے تکفیر ہیں۔اور نشانات سماویہ کے ذریعہ اپنے مسیح موعود ہونے کا ثبوت پیش کیا اور اپنی جماعت کو باہمی محبت اور تقوی اور طہارت کے بارے میں نصائح کیں۔دوسرے روز یورپ اور امریکہ میں اشاعت اسلام کے تعلق میں بمشورہ احباب موجودہ ضروریات و عقائد اسلام کے بارے ایک رسالہ شائع کر کے وہاں بھجوایا جائے اور قادیان میں ایک مطبع کے قیام اور قادیان سے ایک اخبار کے اجراء اور مولوی سید محمد احسن صاحب کے بطور واعظ تقرر اور ان کے ہندوستان میں دورہ کرنے کے بارے امور طے ہوئے اور یہ کہ جلسہ سالانہ پر اشاعت اسلام اور ہمدردی کو مسلمین امریکہ و یورپ کے بارے میں احسن تجاویز سوچی جائیں اور دنیا میں تقوی وطہارت کو ترقی دینے اور عادات و رسوم قبیحہ کے دور کرنے کی تدابیر کی جائیں اور ان امور کی سرانجام دہی کے لئے حضرت مولوی نورالدین صاحب کی صدارت میں ایک کمیٹی قائم کی گئی۔اس کمیٹی کے سیکرٹری کی رپورٹ ہے کہ اجرائے مطبع و اخبار کے ماہوار اخراجات کا اندازہ اڑہائی صد روپیہ تھا۔چنانچہ۔اس پر ہر ایک مخلص نے اپنے مقدور کے موافق بطیب خاطر چندہ لکھوایا اس تجویز سے پہلے بہت سے معزز اصحاب واپس تشریف لے جاچکے تھے۔وہ اس کار خیر میں شامل نہیں ہو سکے۔امید کہ صادقانِ باوفا (اور ) مخلصان بے ریا ضرور اس نیک کام میں شمولیت فرما کر سعادت دارین کے مستحق ہوں گے۔۔۔لیکن حضرت