اصحاب احمد (جلد 10) — Page 374
374 لدھیانہ میں زیارت کے مواقع وو منشی حبیب الرحمن صاحب لکھتے ہیں: ” والد صاحب کے انتقال کے بعد کچھ ایسے (حالات ) پیدا ہو گئے کہ مجھے کچھ عرصہ کے واسطے مع متعلقین حاجی پور آنا پڑا لیکن مشیت ایزدی یہ تھی کہ گو میں کپورتھلہ سے کچھ عرصہ کے ارادہ سے آیا تھا لیکن بالآخر مستقل رہائش یہاں ہوگئی۔میں غالباً ۹۱ء یا۱۸۹۳ء میں حاجی پور آ گیا۔حضرت صاحب کا قیام اکثر لدھیانہ رہتا تھا اور کبھی کبھی قادیان بھی تشریف لے جایا کرتے تھے۔جب لود یا نہ میں ہوتے تھے چونکہ حاجی پور کے ریلوے اسٹیشن سے ( ڈیڑھ میل کے فاصلہ پر پھگواڑہ ہے۔وہاں سے لودھیانہ کا صرف ایک گھنٹہ کا راستہ ہے۔گو مجھے اب (بوجہ ) باہمی مقدمات اور دیگر ضروری انتظام خانه داری فرصت بہت ہی کم ہوتی تھی تاہم میں لودھیانہ کثرت سے جاتارہتا تھا اور اکثر صبح کو جا کر شام کو واپس آ جاتا تھا۔کبھی رات کو بھی مقیم ہوتا تھا۔ساتھ تھا۔ان ہی دنوں میں جو مباحثہ مولوی محمد حسین بٹالوی سے مولوی محمد حسن صاحب کے مکان پر ہوا تھا، میں گرمی کا موسم تھا۔ایک دفعہ میں لدھیانہ میں دو پہر کے بعد پہنچا۔رمضان شریف کا مہینہ تھا۔حضرت بیوی صاحبہ اُم المومنین کا خالہ زاد بھائی محمد سعید بھی حضرت کی خدمت میں رہا کرتا تھا۔میرے پہنچنے پر اس نے کھانے یا شربت کے واسطے دریافت کیا۔میں نے کہا کہ مجھے روزہ ہے۔اس نے روزہ افطار کرنے کے واسطے کہا مگر میں نے منظور نہ کیا۔اس نے کہا کہ منشی ظفر احمد (صاحب) کپورتھلہ آئے تھے۔حضرت صاحب نے ان کا روزہ افطار کر دیا تھا۔اب تمہارا روزہ بھی افطار کرا دیں گے ورنہ تم ابھی روزہ افطار کر دو۔میں نے یہ منظور نہ کیا کہ جب حضرت صاحب فرماویں گے تو مضایقہ نہیں۔اس نے حضرت صاحب سے میرے آنے کی اطلاع دی۔پنے کمرہ میں جس کا میں نے پہلے ذکر کیا ہے، تشریف فرما تھے۔مجھے بھی اس جگہ طلب فرمایا محمد سعید نے کہا حاشیہ سابقہ صفحہ: آسمانی فیصلہ صفحہ (۱ تا ۲۷) کپورتھلہ کے دیگر ذیل کے آٹھ احباب نے بھی اس جلسہ میں شمولیت کی سعادت پائی تھی۔گویا قریباً ساڑھے نواں حصّہ اس اجتماع کا صرف کپورتھلہ کا تھا:۔منشی محمد اروڑ ا صاحب منشی محمدعبدالرحمن صاحب منشی ظفر احمد صاحب منشی محمد خان صاحب منشی سردار خاں صاحب منشی امداد علی خاں صاحب، مولوی محمدحسین صاحب اور حافظ محمد علی صاحب۔یہ مباحثہ ۲۰ تا ۳۱ جولائی ۱۸۹۱ء ہوا تھا۔(الحق لدھیانہ صفحہ ۱۲۳۸ مع حاشیہ )