اصحاب احمد (جلد 10) — Page 359
359 تھا (کہ) اس راہ میں کسی قسم کا نقصان بھی ہوتا ہے یا ہوسکتا ہے۔انہوں نے عملی طور پر دین کو دنیا پر مقدم کرلیا تھا۔(۲۹) بیعت مولوی غلام نبی صاحب خوشابی منشی حبیب الرحمن صاحب نے بواسطہ شیخ عبدالرحمن صاحب بیان کیا کہ: ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عرصہ قیام لدھیانہ میں میں بھی حضور کے قدموں میں حاضر تھا۔وہاں بڑی مخالفت ہوئی۔ایک مولوی اپنے عناد کی وجہ سے ہر ہر گلی میں تھوڑی تھوڑی دور آپ کے خلاف ہرزہ سرائی کرتا تھا۔ایک روز وہ اس کو چہ میں بھی آ گیا۔جس میں حضور کا قیام تھا اس مکان کی بیٹھک سڑک کے کنارہ پر تھی اور زنانہ حصہ مکان عقب میں تھا۔اور زنانہ حصہ سے بیٹھک کے اندر جانے کے لئے سڑک پر سے گذرنا ہوتا تھا۔اتفاق ایسا ہوا کہ جب وہ مولوی اس کو چہ میں باتیں کر رہا تھا تو حضور عقبی حصہ مکان سے بیٹھک کی طرف تشریف لا رہے تھے۔جب اس مولوی نے برکات انوار الہیہ سے روشن حضور کے روئے مبارک کو دیکھا تو تاب نہ لا سکا اور ایسا معجزانہ تصرف الہی ہوا کہ یا تو وہ حضور کے برخلاف کئی روز سے بول رہا تھا۔یا حضور کا مبارک چہرہ دیکھتے ہی فورا حضور پر نور کی طرف لپکا اور تقریر وغیرہ سب بھول گیا۔حضور نے مصافحہ کو اپناہاتھ دے دیا۔وہ حضور کا ہاتھ پکڑے پکڑے حضور کے ساتھ ہی بیٹھک کے اندر داخل ہو گیا اور پاس بیٹھ گیا اور عقیدت کا اظہار کرنے لگا۔اس کے تمام ساتھی باہر گلی میں کھڑے اس ماجرا کو دیکھ کر حیران و ششدر رہ گئے اور باہر کھڑے انتظار کرتے رہے۔مگر مولوی صاحب تھے کہ اندر سے باہر ہی نہ آتے تھے۔ادھر مولوی صاحب تائب ہو کر آپ پر ایمان لے آئے اور ان کی درخواست پر حضرت اقدس نے ان کی بیعت قبول فرمائی۔ان کے ساتھیوں نے جو برابر باہر انتظار میں تھے ، غالباً مولوی صاحب کو بلانے کے لئے اندر پیغام بھی بھیجا مگر یہاں سماں ہی اور تھا۔یہ علم ہونے پر کہ مولوی صاحب نے تو بیعت بھی کر لی ہے۔ان کے تمام ساتھی مولوی صاحب کو گالیاں دیتے ہوئے منتشر ہو گئے اور پھر کسی نے مولوی صاحب کا ساتھ اختیار نہ کیا۔یہ بزرگ حضرت مولوی عبدالغنی صاحب المعروف مولوی غلام نبی خوشابی تھے۔آپ کے اس واقعہ بیعت کو حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے زیادہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔آپ نے جو کچھ تحریر فرمایا اس کا لخص یہ ہے۔لدھیانہ میں ۱۸۹۱ء میں حضرت اقدس علیہ السلام کے قیام کے زمانہ کی بات ہے کہ علمائے لدھیانہ اور مولوی غلام نبی صاحب خوشابی جو ایک جید عالم اور واعظ خوش بیاں تھے۔مخالفت میں دیوانہ ہو رہے تھے۔مولوی