اصحاب احمد (جلد 10) — Page 355
355 ابتدائی زمانہ میں سواری قادیان سے بٹالہ کو جانے کے واسطے بہت دقت ( تھی ) صرف ایک یکہ قادیان میں تھا اور وہ بھی باقاعدہ نہیں چلتا تھا۔کئی دفعہ پیدل آنا جانا ہوتا تھا۔جب کوئی مہمان رخصت کے لئے اجازت طلب کرتا تو ( حضرت صاحب) ضرور دریافت فرماتے کہ (سواری کا انتظام ہو ( گیا) ہے؟ ہم اجازت ہی اس وقت لیتے تھے۔جب (سواری کا) (انتظام ہو جاتا ) یا پیدل چلنے کا ارادہ ہو جاتا اور عرض کی جاتی ) کہ روانگی ہے) تو حضور ( روانگی سے پہلے (فرماتے) کہ ذرا ٹھہریں (کھانا کھا) (کر جائیں اور کھانا بھجواتے ) اور ( کھانے وغیرہ ) ( کے بعد ) تشریف لاتے اور کچھ (فاصلہ ) ( تک تشریف لے جاتے )،، * منشی حبیب الرحمن صاحب بیان کرتے ہیں۔ا۔جب بھی میں قادیان جا تا تو اولین تڑپ میری یہ ہوتی کہ حضرت اقدس کی زیارت مجھے میسر آ جائے تا طبیعت کا اضطراب دور ہو جائے۔جب بھی حضور کو اطلاع ہوئی یا کچھ تحائف پھل اور پان وغیرہ اندرون خانہ بھجوانے کی وجہ سے حضور کو میرے آنے کا علم ہوا تو حضور مجھے اندر بلوالیتے تھے۔متعدد مرتبہ ایسا ہوا اور پھر میں دیر تک حضور کی صحبت سے فیض یاب ہوتا۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوا کہ صرف حضور اور میں دونوں سیر کے لئے گئے ہیں۔( روایت بواسطہ شیخ خلیل الرحمن صاحب) قلمی کاپی (صفحہ ۷۵) یہ ورق دریدہ ہے اس لئے جن الفاظ کا اندازہ سیاق و سباق سے ہو سکا ان کو خطوط وحدانی میں درج کر دیا ہے البتہ جس جس لفظ کا کچھ کچھ حصہ موجود ہے ان پر نمبرا تا ۹ درج کر کے ذیل کی تفصیل درج کی جاتی ہے۔تھوڑا حصہ جو موجود ہے سوا 1 تحمیل کردہ الفاظ ا۔سواری کا ۲۔گیا ۳ سوارے کا ( یعنی سواری کا) سواے روانگی آ ۴۔روانگی ہے تو انگی ۵۔روانگی فر کھا اغیرہ ے کھانا کھا کھانے وغیرہ کوفا ۹۔کچھ فاصلہ