اصحاب احمد (جلد 10) — Page 353
353 استہزاء کرتے ہیں۔اس لئے ہم نے چھپ کر سنا اور کئی موقعے ایسے پیدا کئے کہ ان کو معلوم ہو کہ (وہاں ) ہم میں سے کوئی نہیں ہے۔اور غیر احمدی ان کے پاس ہوتے تھے۔ہم اس وقت ( ساتھ ) کے کمرہ میں خاموشی سے ان کی باتیں سنتے تھے۔تب ہم کو ان کی منافقت کا حال معلوم ہوا۔ہم نے توبہ کی اور یہ تمام حال حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا۔دراصل فراست مومنین کی ضرور ہوتی ہے۔دو چار یوم کے بعد ہی حضرت والد صاحب نے انتقال کیا اور اپنے مالک حقیقی سے جاملے، (قلمی کا پی صفحہ ۳۹ ۴۴) اس سفر لدھیانہ کا ایک اور واقعہ منشی صاحب اسی سفر کے سلسلہ میں تحریر کرتے ہیں کہ اسی وقت کا یہ واقعہ ہے کہ میں اپنے (ایک) رشتہ دار کے ہاں مقیم تھا۔وہ رشتہ میں میرے چچا تھے۔رات کو مجھے معلوم ہوا کہ ان کی نواسی ( کو جس کی ) سات آٹھ سال عمر ( تھی۔۔بخت تپ ہے اور (وہ) بے ہوش ہے۔لیکن انہوں نے مجھ سے تذکرہ نہیں کیا کیونکہ ان دنوں میں طاعون کا چرچا تھا۔ان کو خیال تھا کہ اس کو طاعون ہو گیا ہے۔ایک طبیب بھی ان کے ہاں رہا کرتا تھا اور۔۔۔مطب کرتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان سے اشارہ سے تذکرہ کرتے رہے مگر میں نہ سمجھا انہوں نے) لڑکی کو لا کر طبیب کو دکھایا۔اس نے خاموشی سے ان کو کہا۔اس کو ضر ور طاعون ہو گیا ہے۔ان کے اشاروں سے مجھے بھی شک ہو گیا۔وہ جانتے تھے کہ اگر اس کو معلوم ہو گیا کہ لڑکی کو طاعون ہو گیا ہے۔تو ہمارے گھر سے چلا جائے گا۔کیونکہ مجھے ( اس بارے میں ) بہت وہم سا تھا۔اور ( میں) بہت احتیاط کرتا تھا۔۔۔۔۔طبیب صاحب تو چلے گئے۔میں نے ان سے دریافت کیا کہ لڑکی کو کیا شکایت ہے۔لیکن انہوں نے معمولی سی بات کہہ کر ٹال دیا۔پھر میں نے کہا کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اور حکیم صاحب کو خیال ہے کہ اس کو طاعون ہو گیا ہے۔اس پر انہوں نے کہا کہ سب علامات موجود ہیں۔تپ بھی ویسا ہی ہے۔اور بن ران میں گلٹی نکلی ہوئی ہے۔میں نے ان سے کہا کہ یہ غلط ہے۔اس گھر میں رہ کر آپ کو یا آپ کے گھر کے کسی آدمی کو طاعون نہیں ہوسکتا۔یہ مکان جس میں منصف صاحب (یعنی میرے چا) رہتے تھے۔وہی مکان تھا جس میں حضرت صاحب سالہا سال رہے تھے۔میں نے کہا کہ یہاں رہنے والوں کو طاعون نہ ہو گا پھر میں نے کہا کہ میں لڑکی کو دیکھوں گا۔اندر گیا تو اس کی والدہ ) منتظر تھی لڑکی کا تپ دیکھا۔گلٹی دیکھی اس کی والدہ سے دریافت کیا کہ اس کو چوٹ تو نہیں آئی کیونکہ اس کا انگوٹھا پیر کا کچھ ورم کیا ہوا تھا۔پھر معلوم ہوا کے ایک دن پہلے وہ زینہ سے گرگئی تھی اور پیر میں