اصحاب احمد (جلد 10) — Page 331
331 حاجی صاحب اگر چہ خود احمدی نہ ہو سکے مگر یہ واقعہ ہے کہ کپورتھلہ کی جماعت کا باعث وہی ہوئے اور ان کے خاندان میں حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب رضی اللہ عنہ ان سے تعلق رکھنے والے حضرت منشی ظفر احمد صاحب رضی اللہ عنہ حاجی صاحب کے ہی ذریعہ سے سلسلہ میں آئے حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب تو آپ کے بھتیجے اور وارث ہی تھے۔حاجی صاحب براہین احمدیہ کے خریدار تھے اور اس کے حصص آپ کے پاس جارہے تھے۔وہ خود بھی پڑھا کرتے تھے اور حضرت منشی ظفر احمد صاحب کو بھی سنانے کے لئے فرمایا کرتے تھے اور حضرت ظفر نے عین عنفوانِ شباب میں ہی براہین احمدیہ حاجی صاحب کو سناتے اس نعمت کو پالیا۔۔غرض حاجی صاحب براہین احمدیہ کے خریدار تھے اور شوق و ذوق سے اسے پڑھتے اور سنتے تھے مگر ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قبول کرنے کی توفیق نہ ملی۔البتہ ان کے ذریعہ حضرت اقدس کی دعوت کپورتھلہ پہنچی اور ان کے خاندان میں ایک مخلص شاخ حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب رضی اللہ عنہ کے خاندان (بقیه حاشیه) حاجی صاحب نے اس خط کے ذریعہ کتاب براہین احمدیہ بلا قیمت حاصل کرنے کے لئے عرض کیا تھا۔اس خط سے ظاہر ہے کہ اس سے پہلے قیمت دے کر حاجی صاحب نے براہین احمدیہ کی خریداری اختیار نہ کی تھی۔گویا حاجی صاحب نے التوائے براہین کے بارے جو اعتراض کیا تھا۔وہ دوسروں سے متاثر ہوکر کیا ہوگا۔نہ اس لئے کہ خود پیشگی قیمت دینے والے خریدار تھے۔البتہ حضرت اقدس نے جو مکتوب میں خرید و فروخت کے تعلق کا اور فتح بیع اور واپسی قیمت کی پیشکش کا ذکر کیا ہے وہ اس وجہ سے ہوگا کہ حضور نے اعتراض سے یہ خیال فرمایا ہوگا کہ حاجی صاحب تبھی اعتراض کر رہے ہیں کہ وہ پیشگی قیمت دے چکے ہیں۔حاجی صاحب نے اس معذرت نامہ کو حضور کے نام کے ساتھ مجمع فضائل و کمالات دینی و دنیوی دام مجد کم کے الفاظ سے شروع کیا ہے۔خط کا خلاصہ یہ ہے کہ خلاف ادب نادانی سے جو کچھ میں نے حضور کو لکھا تھا، اس پر طالب عفو ہوں۔دجالوں اور شیاطین کی طرف سے پیدا ہونے والے شکوک کی بیخ کنی آپ کی کتاب (یعنی براہین احمدیہ ) بڑے زور شور سے کرتی ہے۔اور موجب نزول انوار و برکات ہے۔علوم فلسفہ وغیرہ سے مسلمانوں کو مغلوب کر لیا گیا ہے۔لازم تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو محافظت دین اسلام کے لئے کھڑا کرتا اور تمام افراد کو تن تنزل سے محفوظ کرتا۔شکر ہے کہ امت مسلمہ کو آپ کے ذریعہ طاقت عطا ہوئی۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف کے متعلق آپ نے جو کچھ بیان کیا ہے۔سوائے امنا و صدقنا کے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔براہین احمدیہ کے بارے میں دل سے صدائے تحسین و آفرین بلند ہوتی ہے۔اور فلاں بزرگ (بقیہ اگلے صفحہ پر )