اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 330 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 330

330 منشی حبیب الرحمن صاحب اس سلسلہ میں مزید تحریر کرتے ہیں کہ :- اس خط کے پہنچنے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے براہین احمد یہ سفید ورق پر ہر چہار جلد بذریعہ رجردی پیکٹ روانہ فرمائی اور ( یہ ) کپورتھلہ ہی میں پہنچ گئی۔مجھے بلا کر پچاس روپے دئے کہ آج ہی جناب مرزا صاحب کی خدمت میں بذریعہ منی آرڈر روانہ کر دو۔چنانچہ میں نے روانہ کر دئے اور جناب والد صاحب نے ایک خط لکھ دیا۔قلمی کا پی صفحہ ۳۸) * حاجی صاحب کی آخری حالت کا جائزہ (۱) حضرت اقدس علیہ السلام نے حاجی محمد ولی اللہ صاحب کے ایک خط پر ناراضگی کا اظہار فرمایا لیکن بالآخر حاجی صاحب نے ندامت کا اظہار کیا۔حضرت عرفانی صاحب نے تمام امور کا جائزہ لے کر حاجی صاحب کے نام حضرت اقدس کے مکتوبات درج کرنے سے قبل ذیل کا تعارف رقم کیا ہے :- ” حاجی ولی اللہ صاحب ریاست کپورتھلہ کے ایک معزز عہدہ دار تھے۔اپنی سمجھ اور فکر کے موافق اس عہد کے دیندار مسلمانوں میں آپ کا شمار تھا۔بقیہ حاشیہ : جناب والد صاحب مرحوم کے پاس باوجود اس قدر علم وفضل کے صرف چار کتب رہا کرتی قرآن شریف ، حجتہ اللہ البالغہ عربی مصنفہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ حصن حصین (اور ) براہین احمدیہ۔ان میں سے حجتہ اللہ البالغہ جناب مفتی محمد صادق صاحب نے جب دورہ تبلیغ پر تشریف لائے ، پسند کی اور لے لی۔جو ان کی صادق لائبریری میں ہے۔باقی میرے پاس ہیں۔جو براہین احمدیہ ابتداء غلام محی الدین سے لے کر جناب والد صاحب نے مطالعہ فرمائی تھی، چونکہ وہ مخالف تھا اس لئے وہ بھی میں نے اس سے خرید لی تھی۔اور کسی دوست کو دے دی تھی۔وجہ یہ کہ دعوای مسیح موعود کے بعد اکثر مخالفت کا زور ہوا۔جنہوں نے پہلے براہین احمد بھریدی ہوئی تھی اور ان کے مخالفانہ خیال ہو گئے تھے تو وہ شکایت کرتے پھرتے تھے کہ ہمارا روپیہ مرزا صاحب نے مارلیا۔اور باقی جلدیں براہین احمدیہ کی نہیں بھیجیں اور مسیح بن بیٹھے۔اس لئے ہم نے جہاں سے کوئی نسخہ براہین احمد یہ کامل سکا خرید لیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی پسند فرمایا اور فرمایا کہ ضرور خرید لیا کرو خواہ ہمارے پاس لے کر بھیج دیا کرو۔اس عام شکایت پر حضور نے ایک اشتہار بھی دیا تھا کہ جس کو شکایت ہو کتاب واپس بھیج کر اپنا پر روپیہ منگالے-فقط- قلمی کاپی صفحہ ۳۹۹۳۸) (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر )