اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 318 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 318

318 مگر حضرت نے ان کے مکتوب کو تو حوصلہ اور برداشت سے پڑھا لیکن خیانت اور بددیانتی کا الزام چونکہ محض اتہام تھا آپ نے اس کا نہایت دندان شکن جواب ایسے رنگ میں دیا جو صرف خدا تعالے کے مامورین و مرسلین کا خاصہ ہے۔آخر حاجی صاحب براہین کے متعلق اعتراضات کرنے سے تو باز آ گئے اور انہوں نے حضرت سے اپنے دعوی کے متعلق سوالات کئے جن کا جواب او پر دیا گیا ہے۔لیکن اس کے بعد ان کے تعلقات کم ہوتے گئے۔اور خدا تعالیٰ نے ان کی جگہ ایک نہایت مضبوط اور مخلصین کی جماعت حضرت کو دیدی۔اور یہ کپورتھلہ کی جماعت ہے جن میں خود ان کے بعض عزیز اور رشتہ دار بھی تھے اور ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ ابتداء جب کہ حضرت نے کوئی دعوا می نہ کیا تھا۔براہین ہی کو دیکھ کر حاجی صاحب خودلوگوں پر ظاہر کیا کرتے تھے کہ یہ مجدد ہیں۔چنانچہ منشی ظفر احمد صاحب۔۔۔۔۔۔۔فرماتے ہیں کہ حاجی صاحب ۳۸ یا ۳۹ بکرمی میں قصبہ سراوہ ضلع میرٹھ میں تشریف لے گئے تھے۔اس وقت ان کے پاس براہین احمدی تھی۔وہ حاجی صاحب سنایا کرتے تھے۔اور بہت سے آدمی جمع ہو جایا کرتے تھے۔مختلف لوگوں اور مجھ سے بھی سنا کرتے تھے۔اور حاجی صاحب لوگوں پر یہ ظاہر فرماتے تھے کہ یہ مجدد ہیں۔وو حاجی صاحب کو جو مصیبت پیش آئی وہ کسی مخفی مصیبت از قسم کبر وغیرہ یا اعتراض کے نتیجہ میں آئی جو براہین کے التواء پر کیا تھا جن ایام میں ان کے اندر مخالفت یا انکار کے کیڑے ابھی پیدا نہ ہوئے تھے انہی ایام میں خدا تعالیٰ مخلصین کی اس جماعت کو تیار کر رہا تھا۔جیسا کہ منشی ظفر احمد صاحب کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو انہی دنوں بڑی عقیدت پیدا ہوگئی تھی۔جب حاجی صاحب سرا وہ گئے تھے اور منشی صاحب براہین سنایا کرتے تھے۔لیکن ۱۹۴۱ء بکرمی (۱۸۸۴ء) وہ کپورتھلہ آگئے تو براہین کا باقاعدہ درس انہوں نے شروع کر دیا۔اور یہی جماعت صالحین پیدا ہونے کا ذریعہ ہو گیا۔ادھر ۱۸۸۴ء کے آخر تک حاجی صاحب نے قریباً قطع تعلق کر لیا اور خدا کے فضل نے ان کی جگہ مخلصین کی ایسی جماعت پیدا کر دی جو اپنے اخلاص و وفا میں بے نظیر ثابت ہوئی۔(۱۸) التوائے براہین احمدیہ کے بارے اعتراض کے جواب میں حضرت اقدس کا متذکرہ بالا مکتوب درج ذیل ہے۔مخدومی مکر می اخویم حاجی صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ☆ (۱) '' (۱۸۸۴ء)‘ اصل عبارت میں موجود ہے۔۱۹۴۱ء بکرمی، کا سال ۲۸ / مارچ ۱۸۸۴ء تا ۱۸۸۵ء ممتد ہے۔(باء)’حاجی صاحب کو مصیبت پیش آئی وہ کسی مخفی مصیبت از قسم کیپر وغیرہ میں مصیبت کا لفظ دونوں جگہ سہو کتابت سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے۔در حقیقت لفظ ”معصیت ہے۔( مؤلّف اصحاب احمد )