اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 317 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 317

317 اسی صدی کے لئے پیدا ہوتا ہے کہ جس میں سخت ضلالت پھیلتی ہے جیسے آج کل ہے۔(۵) پانچواں سوال میں آپ کا سمجھا نہیں۔مجھ سے اچھی طرح پڑھا نہیں گیا۔(۶) حضرت مجد دالف ثانی اپنے مکتوب میں آپ ہی فرماتے ہیں کہ جولوگ میرے بعد آنے والے ہیں۔جن پر حضرت احدیت کی خاص عنایات ہیں ان سے افضل نہیں ہوں۔اور نہ وہ میرے پیر و ہیں۔سو یہ عاجز بیان کرتا ہے۔نہ فخر کے طور پر بلکہ واقعی طور پر شكراً لنعمة الله کہ اس عاجز کو خدا تعالیٰ نے ان بہتوں پر افضلیت بخشی ہے کہ جو حضرت مجد دصاحب سے بھی بہتر ہیں۔اور مراتب اولیاء سے بڑھ کر نبیوں سے مشابہت دی ہے۔سو یہ عاجز مسجد دصاحب کا پیر نہیں ہے۔بلکہ براہ راست اپنے نبی کریم کا پیرو ہے اور جیسا سمجھا گیا ہے، بدلی یقین سمجھتا ہے کہ ان سے اور ایسا ہی ان بہتوں سے کہ جو گزر چکے ہیں، افضل ہے، و ذلك فضل الله يُؤتيه من يشاء- (۷) خدا تعالیٰ کے کلام میں مجھ سے یہ محاورہ نہیں ہے۔مجھ کو حضرت خداوند کریم محض اپنے فضل۔صدیق کے لفظ سے یاد کرتا ہے۔اور نیز دوسرے ایسے لفظوں سے جن کے سننے کی آپ کو برداشت نہیں ہوگی اور حضرت خداوند کریم نے مجھ کو اس خطاب سے معز ز فرما کر (14) إِنِّي فَضَّلْتُكَ عَلَى الْعَالَمِيْنَ قُلُ أُرْسِلْتُ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (١٢) یہ بات بخوبی کھول دی ہے کہ اس نا کارہ کو تمام عالمین یعنی تمام روئے زمین کے باشندوں پر فضیلت بخشی گئی ہے۔پس سوال ہفتم کے جواب میں اسی قدر کافی ہے۔(۸) اس ناکارہ کے والد مرحوم کا نام غلام مرتضیٰ تھا۔وہی جو حکیم حاذق تھے۔اور دنیوی وضع پر اس ملک کے گردو نواح میں مشہور بھی تھے۔والسلام علیٰ من اتبع الهدى / دسمبر ۱۸۸۴ء (۱۷) التو ئے براہین احمدیہ پر اعتراض حضرت عرفانی صاحب رقم فرماتے ہیں کہ حاجی ولی اللہ صاحب کو ابتداء حضرت اقدس سے کچھ اخلاص تھا۔اور وہ براہین احمدیہ کے خریدار بھی تھے۔لیکن جب براہین کی چوتھی جلد کی اشاعت کے ساتھ اس کی آئندہ اشاعت ایک غیر معتین عرصہ کے لئے معرض التواء میں آئی تو جن لوگوں کو شکوک و شبہات شروع ہوئے ان میں سے ایک حاجی ولی اللہ صاحب بھی تھے۔وہ ریاست کپورتھلہ میں ایک معزز عہدہ دار تھے اور اپنی حکومت و امارت کا بھی ایک نشہ تھا۔حضرت کو انہوں نے ایک سخت خط لکھا۔جس میں براہین احمدیہ کے التوائے اشاعت کی وجہ سے وعدہ شکنی وغیرہ کے الزامات لگائے گئے