اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 316 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 316

316 جانچا۔اپنے یقین کا اندازہ معلوم نہیں کیا بلکہ اتفاقاً مسلمانوں کے گھر پیدا ہو گئے۔اور پھر رسم و عادات کے طور پر لا اله الا اللہ کہتے رہے۔حقیقی یقین اور ایمان بحجر صحبت صادقین میسر نہیں آتا۔قرآن شریف تو اس وقت بھی ہوگا جب قیامت آئے گی مگر وہ صدیق لوگ نہیں ہوں گے کہ جو کہ قرآن شریف کو سمجھتے تھے اور اپنی قوت قدسی سے مستعدین پر اس کا اثر ڈالتے تھے۔لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (۱) پس قیامت کے وجود کامانع صرف صدیقوں کا وجود ہے۔قرآن شریف خدا کی روحانی کتاب ہے۔اور صدیقوں کا وجود خدا کا ایک مجسم کتاب ہے۔جب تک یہ دونوں نمایاں انوار ایمانی ظاہر نہیں ہوتے تب تک انسان خدا تک نہیں پہنچتا - فتد برو او تفکروا (۳) اس کا جواب جواب دوم میں آ گیا ہے۔(۴) اول قرآن شریف مجدد کی ضرورت بتلاتا ہے۔جیسے میں نے ابھی بیان کیا ہے۔قال اللہ تعالیٰ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (۱۲) وقال الله تعالیٰ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (۱۳) اور ایسا ہی حدیث نبوی بھی مجد د کی ضرورت بتلاتی ہے: عن ابي هريرة قَالَ قَالَ رَسُول الله صلى الله عليه وسلم إِنَّ اللَّهَ يَبْحَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَاسٍ كُلَّ مِائَةٍ مَنْ يُحِدَّدُ لَهَارِيْنَهَا (اله) اور اجماع سنت و جماعت بھی اس پر ہے کیونکہ کوئی ایسا مومن نہیں کہ جو حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روگردان ہوسکتا ہے اور قیاس بھی اسی کو چاہتا ہے۔کیونکہ جس حالت میں خدا تعالیٰ شریعت موسوی کی تجدید ہزار ہا نبیوں کے ذریعہ سے کرتا رہا ہے اور گو وہ صاحب کتاب نہ تھے مگر مجد دشریعت موسوی تھے۔اور یہ اُمت خیر الام ہے قال الله تعالى:- كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ) (۱۵) پھر کیونکر ممکن ہے کہ اس امت کو خدا تعالیٰ بالکل گوشئہ خاطر عاطر سے فراموش کر دے اور باوجود صد ہا خرابیوں کے کہ جو مسلمانوں کی حالت پر غالب ہو گئی ہیں اور اسلام پر بیرونی حملے ہورہے ہیں ، نظر اُٹھا کر نہ دیکھے جو کچھ آج کل اسلام کی حالت خفیف ہو رہی ہے، کسی عاقل پر مخفی نہیں یعنی تعلیم یافتہ عقائد حقہ سے دست بردار ہوتے جاتے ہیں۔پرانے مسلمانوں میں صرف یہودیوں کی طرح ظاہر پرستی یا قبر پرستی رہ گئی ہے۔ٹھیک ٹھیک رو بخدا کتنے ہیں، کہاں ہیں اور کدھر ہیں۔ہر ایک صدی میں کوئی نامی مجدد پیدا ہونا ضروری نہیں۔نامی گرامی مجد دصرف