اصحاب احمد (جلد 10) — Page 311
311 وجہ سے ملا زمت سے نفرت کرتے تھے کہ اس میں جھوٹ ، فریب اور دھوکہ بازی میں ملوث ہوتا پڑتا ہے اور ایسے قبائح کا ارتکاب خلاف رضائے الہی ہے۔حاجی صاحب جنہوں نے آپ کی تربیت مثل فرزند کی تھی ، اُن کی وفات پر ریاست کے دستور کے مطابق آپ کی دستار بندی کی رسم ادا کر کے آپ کو حاجی صاحب کا جانشین بنایا گیا۔ہمیں حاجی صاحب کو براہین احمدیہ کا اشتہار ملنا اور حضرت اقدس سے خط وکتابت ہونا منشی حبیب الرحمن صاحب تحریر کرتے ہیں کہ : غالباً ۱۸۸۴ء کا ذکر ہے کہ والد صاحب مرحوم حضرت حاجی محمد ولی اللہ صاحب سیشن جج ریاست کپورتھلہ کے پاس چار اشتہار بذریعہ ڈاک آئے۔یہ اشتہار بہت بڑے کا غذ پر تھے۔یہ اشتہار حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود علیہ السلام کا شائع کیا ہوا تھا اس میں براہین احمدیہ ہر چہار حصہ کا اشتہار تھا اور مسلمانوں کواس کی خرید کی دعوت دی تھی اور حضرت صاحب نے اپنے آپ کو اس اشتہار میں اس صدی کا مجد دظاہر کیا تھا۔ساتھ ہی ایک خط بھی تھا جو مرزا سلطان احمد صاحب کی جانب سے اور ان ہی کے قلم سے لکھا ہوا تھا اور ان کا مضمون بھی ایسا ہی تھا اور لکھا تھا کہ ایک اشتہار خود اپنے پاس رکھ کر تین اشتہار اپنے دوستوں میں تقسیم کر دیں۔چنانچہ حضرت والد صاحب مرحوم نے ایک اشتہار کرنل محمد علی خان صاحب اور ایک اشتہار میاں عزیز بخش صاحب مرحوم کلکٹر ریاست کپورتھلہ اور ایک اشتہار منشی محمد چراغ صاحب کو بھیج دیا اور ایک خط حضرت صاحب کی خدمت میں لکھا کہ آپ کے اشتہارات پہنچے اور میں نے تقسیم کر دیئے۔اور کچھ ایسے کلمات بھی تحریر کئے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ ان کو ان ( یعنی حضور * ) پر یقین نہیں آیا۔اور بے اعتباری ظاہر ہوتی تھی۔غالبا یہ بھی لکھا کہ الحکم ۲۸ جولائی ۱۹۳۵ء (صفحہ ۷ کالم ۲ ۳)، ۷ اگست (صفحہ ۷ کالم ۲ و ۳) مضمون مصدقہ منجانب حضرت منشی ظفر ☆ احمد صاحب منشی حبیب الرحمن صاحب لکھتے ہیں کہ میں اپنے تای حاجی محمدولی اللہ صاحب کی خدمت میں مثل فرزندان رہا۔اس لئے قلمی کاپی میں والد صاحب سے مراد وہی ہیں (قلمی کاپی صفحہ ۸) مضمون مصدقہ منجانب حضرت منشی ظفر احمد صاحب (مندرجہ الحکم ۲۸ جولائی ۱۹۳۵ء) ( صفحہ سے کالم۳) میں میں یہ ذکر ہوا ہے کہ یہ واقعہ غالباً ۱۸۸۵ء کا ہے۔یہ سہو ہے یہ واقعہ ۱۸۸۴ء کا ہے کیونکہ مجددیت کے بارے حاجی صاحب کے سوالات کا جواب حضور کی طرف ۱۸۸۴ء میں دیا گیا ہے جو آگے درج ہے۔* یہ خطوط واحدانی کے الفاظ خاکسار موقف کی طرف سے ہیں۔