اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 299 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 299

299 دوست اور اس کے رشتہ دار سب ان برکات سے کچھ نہ کچھ حصہ لے گئے جو اس پر نازل ہوئی تھیں۔۔۔۔۔وہ گہرے دوست بھی۔۔۔۔یہ لوگ خدا کی طرف سے ایک حصن حصین ہوتے ہیں۔اور دنیا ان کی وجہ سے بہت سی بلاؤں اور آفات سے محفوظ رہتی ہے۔ان کا وجود ہی لوگوں کے لئے برکتوں اور رحمتوں کا موجب ہوتا ہے۔یہ لوگ جنہیں خدا تعالیٰ کے انبیاء کی صحبت حاصل ہوتی ہے، یہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے انبیاء کا قرب رکھتے ہیں ، خدا تعالیٰ کے نبیوں اور اس کے قائم کردہ خلفاء کے بعد دوسرے درجہ پر دنیا کے امن اور سکون کا باعث ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لائے یہ تو اس عام درجہ سے بھی بالا تھے ( جو حضرت جنید جیسے بزرگوں کو حاصل تھا ) ان کو خدا نے آخری زمانہ کے مامور اور مرسل کا صحابی اور پھر ابتدائی صحابی بنے کی توفیق عطا فرمائی اور ان کی والہانہ محبت کے نظارے ایسے ہیں کہ دنیا ایسے نظارے صدیوں میں بھی دکھانے سے قاصر رہے گی۔پس اپنے اندر عشق پید کرو اور وہ راہ اختیار کر و جوان لوگوں نے اختیار کی۔“ " کپورتھلہ کی جماعت کو ایک خصوصیت یہ بھی حاصل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس جماعت کو یہ لکھ کر بھیجا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ جس طرح خدا نے ہمیں اس دنیا میں اکٹھا رکھا ہے اس طرح اگلے جہان میں بھی کپورتھلہ کی جماعت کو میرے ساتھ رکھے گا۔پس ایک ایک صحابی جو فوت ہوتا ہے وہ ہمارے ریکارڈ کا ایک رجسٹر ہوتا ہے جسے ہم زمین میں دفن کر دیتے ہیں۔اگر ہم نے ان رجسٹروں کی نقلیں کر لی ہیں تو یہ ہمارے لئے خوشی کا مقام ہے۔انلوگوں کی قدر کرو ان کے نقش قدم پر چلو (4)66 (ج) حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی تحریر فرماتے ہیں: تاریخ سلسلہ احمدیہ میں جماعت کپورتھلہ کو اپنے اخلاص اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ عشق و محبت میں ایک خاص امتیاز حاصل ہے اور اس جماعت کی قربانیاں ایک غیر معمولی رنگ رکھتی ہیں اس جماعت کے تمام افراد میں قربانیوں کے لئے باہم رشک اور جذبہ مسابقت تھا۔اس قسم کے ان کے رشک کے بعض واقعات ایک لذیذ ایمان پیدا کرتے ہیں۔ان میں باہمی اخوت و محبت کا بے نظیر جذ بہ تھا گویا کہ وہ ایک بنیان مرصوص ہیں۔کبھی ان کو کسی دوسرے سے شکایت ہوتی تو کسی دنیوی امر سے نہیں بلکہ اسی قربانی کے سلسلہ میں ہوتی تھی مثلاً ایک دفعہ لدھیانہ میں حضور نے منشی ظفر احمد صاحب سے فرمایا کہ ایک اشتہار کی اشاعت کی ضرورت ہے کیا آپ کی جماعت