اصحاب احمد (جلد 10) — Page 295
295 موعود ایک فل سکیپ سائز کی مجلد میں اپنے قلم سے تحریر کئے اور ساتھ ہی میں نے حضرت مولوی حکیم حاجی نورالدین صاحب رحمتہ اللہ علیہ ) خلیفہ اول کے مکتوبات تلاش کر کے جمع کئے۔اور وہ دوسری جلد میں اپنے قلم سے لکھے۔ان دونوں کو میں نے اپنی لائبریری میں رکھ دیا۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب جو اولین میں ( سے ) ہیں۔میرے صادق و دوست اور بھائی ہیں۔مجھے اُن سے اور اُن کو مجھ سے اس قدر محبت ہے کہ نہ اس کی ابتداء اور نہ انتہاء میں اُن کے ساتھ اپنے اس تعلق کو فخر سمجھتا ہوں۔میرے لئے ان کی دُعائیں بے حد قبول ہوئی ہیں۔وہ اکثر تبلیغی دورہ پر جب تشریف لے جاتے تو ضرور میرے پاس تشریف لاتے اور جس قدر ممکن ہو سکتا قیام فرماتے۔دورانِ قیام میں وہ ایسے معلوم ہوتے تھے کہ گویا وہ میرے کنبہ کے ممبران میں سے ایک ہیں۔میرے چھوٹے چھوٹے بچے بھی ان کو غیر نہیں سمجھتے تھے۔وہ ایک ایک سے ایسی محبت کرتے تھے اور کرتے ہیں، جیسے حقیقی رشتہ دار کرتے ہیں۔ایک دفعہ یہاں سے روانگی کے وقت فرمایا کہ مجھے آپ سے اور آپکے بچوں سے اس قدر محبت ہے کہ جب میں آپ کے گھر سے رخصت ہوتا ہوں تو اس قدر قلق ہوتا ہے کہ اپنے گھر سے روانگی کے وقت اس قد رقاق نہیں ہوتا۔”انہوں نے میرے کتب خانہ سے چند کتابیں اپنی صادق لائبریری کے لئے پسند فرمائیں جو میں نے دے دیں انہی میں یہ دونوں مکتوبات کی جلدیں بھی تھیں۔ان کے واسطے وعدہ فرمایا تھا کہ نقل کرا کر واپس کر دوں گا۔لیکن وہ نقل نہ کر سکے۔مگر وہ جملہ مکتوبات اخبار بدر میں جس کے وہ ایڈیٹر تھے ،شائع کر دیئے۔میں خوش ہوں کہ جہاں میری چند کتابوں نے ان کی صادق لائیبریری میں جگہ پائی، وہاں میرے قلم کے لکھے ہوئے دو نسخے بھی ان کی لائیبریری میں ہوں گے۔اور مجھے امید ہے کہ جو اہلِ علم ان کو دیکھے گا میرے حق میں دُعا کرے گا۔(قلمی کا پی صفحہ اتنا ) اس قلمی کا پی پر تاریخ درج نہیں جس سے معلوم ہو سکے کہ اس کی تحریر کا کام کب شروع کیا گیا۔البتہ بیان بالا سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس وقت تک حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی روایات کی جلد اول (یعنی سیرت المہدی ) طبع ہو چکی تھی جس کی تاریخ طبع دسمبر ۱۹۲۳ء ہے اور جلد دوم کی تاریخ طبع دسمبر ۱۹۲۷ء ہے گویا دونوں کتب کی تاریخ طبع کے درمیانی عرصہ میں منشی حبیب الرحمن صاحب یہ حالات وغیرہ قلمبند کر رہے تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے منقولہ بالا مکتوب مورخہ ۱۸؍ فروری ۱۹۲۴ء میں ذکر آیا ہے کہ منشی صاحب نے اس وقت مواد جمع کرنے کا کام شروع کر رکھا تھا۔(باقی اگلے صفحہ پر )