اصحاب احمد (جلد 10) — Page 292
292 سائز کی دستیاب ہوئی ہے۔صفحہ بہتر پر آپ کے دستخط عاجز حبیب الرحمن از حاجی پورہ پھگواڑہ مثبت ہیں اور مہر بھی۔گویا اس وقت جو کچھ سپر د قلم کرنا آپ کے مدنظر تھا، آپ اس کی تکمیل کر چکے تھے۔بعد میں آپ نے صفحہ تہتر تا چوراسی کا اضافہ کیا۔آخری صفحہ کا کچھ حصہ خالی ہے لیکن وہاں آپ کے دستخط نہیں۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مزید امور تحریر میں لا نامۂ نظر ہوگا۔جس کا بعد میں موقع نہیں ملا ہوگا۔یا یہ آخری صفحات موجود نہیں۔مُہر مذکورہ اس کا پی پر چڑھائے گئے موٹے کاغذ پر ان الفاظ کی ثبت ہے: HABIBUR RAHMAN VILLAGE HAJIPUR P۔O PHAGWARA ہر ورق کے دونوں طرف تحریر کے لئے استعمال ہوئے ہیں۔اور اس کے صفحات کا شمار ۱-۳-۵ کے طریق پر سُرخ روشنائی سے درج ہے۔صفہ ہے کے بعد کے ورق پر ۷۴ رقم ہے۔گویا دونوں کے درمیان ایک الگ ورق کا ایک صفحہ لکھا گیا ہوگا جس کا شمار سے تھا۔لیکن یہ ورق موجود نہیں۔صفحہ ۷۲ کے آخر پر مہر جس کا نقش او پر درج کیا گیا ہے ثبت ہے اور ذیل کے الفاظ میں دستخط ثبت ہیں: " عاجز حبیب الرحمن از حاجی پور پھگواڑہ اس کاپی کے ایک صفحہ پر پندرہ سے اٹھارہ تک سطور ہیں۔لیکن صفحات ۷۴، ۷۵ والا ورق دریدہ ہے جس کی دونوں طرف دس دس ابتدائی سطور مکمل طور پر موجود ہیں اور بقیہ سطور ضائع ہو چکی ہیں اور صفحات ۷۷،۷۶ والا ورق بھی قریباً ایک انچ دریدہ ہے۔صفحات ۷۲ تا ۸۴ کسی کے نجی معاملہ کے متعلق ہیں، ان کو کتاب ہذا میں شامل نہیں کیا گیا۔بیان شیخ محب الرحمن صاحب۔آپ کے فرزند اکبر حضرت والد صاحب نے اپنی روایات و حالات کا کچھ حصہ ایک بڑے بیاض ( رجسٹر ) میں درج کیا تھا۔سب سے زیادہ خود ذمہ دار ہونے کی وجہ سے میں نے اس کی تکمیل کا ارادہ کیا۔لیکن ملازمت کی مشغولیت وغیرہ کی وجہ سے میں اس اہم کام کو سر انجام نہ دے سکا۔افسوس کہ تقسیم ملک کے حوادث میں مذکور مسودہ اور مکتوبات حضرت مسیح موعود علیہ السلام وغیرہ کا اہم ذخیرہ ضائع ہو گیا۔میں نے بہت سا مواد جمع کر لیا ہے۔لیکن یہ مواد کسی ٹھوس شکل میں موجود نہیں۔حمید م مکتوب ۱۴ ستمبر ۱۹۶۰ء