اصحاب احمد (جلد 10) — Page 253
253 ۲۵۔از ڈاکٹر صاحب موصوف ) : میں نے وٹرنری کالج کے پہلے سال کا امتحان دینا تھا۔میں نے حضور کی خدمت میں دعا کے لئے عرض کیا۔فرمایا تین دفعہ (رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً پڑھ لینا اور پھر اندر جا کر امتحان دے دینا چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور امتحان میں کامیاب ہو گیا۔۲۶۔( از ڈاکٹر صاحب موصوف ) : حضور" معمولی سا تحفہ بھی قبول فرما لیتے تھے۔ایک دفعہ موضع بسراواں کی طرف سیر میں ایک زمیندار نے اپنے کھیت کے پچھپیں تمہیں کا ٹھے گنے حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے کنویں کے قریب پیش کئے جو میں نے اٹھا لئے۔یہ کنواں محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی دارالانوار والی کوٹھی النصرۃ کے قریب ہے۔قصبہ میں پہنچ کر دوست رخصت ہو گئے۔میں حضور کے ہمراہ ڈیوڑھی دارا مسیح تک آیا۔اندر داخل ہوتے وقت مسکرا کر فرمایا۔میں آپ کے گنے لیتا جاؤں اور دونوں ہاتھ پھیلا کر گنے جو بندھے ہوئے تھے اٹھا کر اندر تشریف لے گئے۔۲۷۔از ڈاکٹر صاحب موصوف ) : مسجد مبارک میں مجھے حضرت مسیح موعود کا جسم دبانے کے بہت کثرت سے موقعے ملے۔حضور نے کبھی منع نہیں فرمایا۔خواہ کتنی دیرد با تارہتا۔حضور کی عمر کے آخری سالوں میں بھی حضور کا جسم بہت مضبوط تھا۔۲۸ - ( از مولانا محمد ابرہیم صاحب بقا پوری : ۱۹۰۴ء میں میں نے اپنی مذہبی حالت کے پیش نظر مولوی عبدالجبار صاحب وغیرہ کو جوابی خطوط لکھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں صرف پوسٹ کارڈ بھیجا۔ان سب کا مضمون یہ تھا کہ میں زبان سے تو بے شک خدا تعالیٰ کا اور حشر و نشر کا مقر ہوں اور مسجدوں میں وعظ بھی کرتا ہوں مگر امر واقعہ اور کیفیت قلبی یہ ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ کے وجود میں ہی شک ہے اس لئے مجھے ایسے مرشد کی تلاش ہے جس کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا وجود مع اس کی عظمت اور محبت کے دل میں جاگزیں ہو جاوے وغیرہ