اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 250 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 250

250 ۱۶۔(از ڈاکٹر صاحب موصوف ) حضور کی عادت تھی کہ جہاں تشریف لے جاتے سب سے پہلے السلام علیکم کہتے۔چنانچہ ایک دفعہ جبکہ میری عمر چودہ سال کی تھی۔اور میں تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کی تھر ڈیڈل کا طالب علم تھا لیکن بالکل غریب۔سر سے اور پاؤں سے ننگا۔میں مغربی گیٹ میں کھڑا تھا۔حضور تشریف لائے اور آتے ہی حضور نے خاکسار کو السلام علیکم کہا۔اس وقت یہ مدرسہ موجودہ احمدیہ مدرسہ والی اندرون شہر کی جگہ میں ہوتا تھا۔حضور کا یہ بھی طریق تھا کہ جب کوئی شخص بات کرتا تو حضور سنتے رہتے ، جب تک کہ وہ بات ختم نہ کر لیتا۔۱۷۔(از ڈاکٹر صاحب موصوف ) میرے پاس حضرت اقدس کے بہت سے تبرکات مثلاً مو مبارک مہندی والا کر تہ وغیرہ تھے۔لیکن وہ کھوئے گئے اب صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا ہے جو کہ میرے خسر حضرت سید عزیز الرحمن صاحب بریلوی کے پاس حضور کے ایک تبرک قمیص کا ٹکڑا ہے۔اس کے ایسے ٹکڑے میری اہلیہ اور سید صاحب کی دیگر اولاد میں بھی تقسیم ہوئے تھے۔اور مجھے بھی ملا تھا۔۱۸۔( از ڈاکٹر صاحب موصوف ) جوانی میں میں خوب ورزشی تھا ،فٹ بال۔کبڈی۔میروڈ بہ۔تیرا کی اور دوڑ وغیرہ میں خوب مہارت رکھتا تھا۔ایک دفعہ حضرت اقدس کے زمانہ میں فٹ بال کا میچ قادیان کی احمد یہ ٹیم اور بیرنگ ہائی سکول بٹالہ کی ٹیم کے درمیان بٹالہ میں ہوا۔جب احمد یہ ٹیم گول کرتی تو بطور شکرانہ کے میدان میں سجدہ کرتی جس کا لوگوں پر بہت اچھا اثر ہوا۔ٹیم کی واپسی پر کسی نے خوشی سے باجا بجایا۔لیکن حضرت اقدس نے اسے نا پسند فرمایا۔اور منع فرمایا۔۱۹۔( از ڈاکٹر صاحب موصوف ) :۔ایک دفعہ مسجد مبارک میں حضرت اقدس کی مجلس میں حاضر تھا۔حضرت میر ناصر نواب صاحب نے مجھے حضرت مسیح موعود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔کہ عطر دین تو وہ بیٹھے ہوئے ہیں۔تمہارا تو صرف نام عطر دین ہے۔میں نے کہا کہ اصل عطر دین تو حضور صاحب ہی ہیں اور یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ حضور اقدس کی برکت سے ہمیں بھی روحانی عطر سے معطر کر دے۔۲۰۔(از ڈاکٹر صاحب موصوف ) حضرت مسیح موعود ایک دفعہ مسجد مبارک میں اپنے اصحاب میں رونق افروز تھے۔خاکسار نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ حضور میرے لئے دعا فرمائیں۔حضرت علیہ السلام نے اسی وقت مجلس میں میرے جیسے بیکس اور مفلس کیلئے ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی جس کا اثر مجھے ہمیشہ ہی محسوس ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے کافی روپیہ کمایا۔خدمت دین کی بھی توفیق ملی۔نیک خاندان میں شادی ہوئی۔اور اللہ تعالیٰ نے اولا د بھی عطا کی اور اب درویشی کے دور میں قادیان میں رہنے کا بھی موقع عطا کیا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدَاً كَثِيراً۔