اصحاب احمد (جلد 10) — Page 251
251 ۲۱۔( از حضرت ڈاکٹر صاحب موصوف) حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور خاکسار شکار کے لئے گئے۔محترم صاحبزادہ صاحب کے پاس ہوائی بندوق تھی۔ایک لٹور کا نشانہ انہوں نے کیا۔چھڑ ا تو اس کو نہ لگا لیکن وہ چھوٹا سا پرندہ ڈر کر سہم گیا۔اور میں نے اس کو ہاتھ سے ہی پکڑ لیا۔وہ اسے گھر لے گئے۔اور کہا کہ اسے پنجرے میں رکھیں گے۔جب حضرت نے اس کو دیکھا تو فرمایا میاں! یہ جانور رکھنے کے لئے نہیں ہوتا۔اس کو آزاد کر دو چنا نچہ وہ لٹور چھوڑ دیا گیا۔۲۲۔از ڈاکٹر صاحب موصوف) ایک دفعہ حضرت میر محمد الحق صاحب جبکہ ابھی چھوٹے بچے تھے کہ اپنے والد صاحب سے ناراض ہو کر کہیں ادھر ادھر چلے گئے۔حضرت اقدس کو خبر ہوئی تو بہت متفکر ہوئے اور کسی خادم کو بورڈنگ میں بھجوا کر تیز دوڑنے والے طلب فرمائے حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب سپر نٹنڈنٹ نے ہم چند لڑکوں کو حضور کی خدمت میں بھجوایا چونکہ میں بہت تیز دوڑتا تھا۔اس لئے ان لڑکوں کا لیڈ رشمار ہوتا تھا۔مغرب کے بعد کا وقت تھا۔حضور نے بڑی محبت سے فرمایا آپ سب کو بڑی تکلیف ہوئی۔آپ کو بھوک لگے گی میں آپ کے لئے روٹیاں لاتا ہوں۔چنانچہ آپ خود پندرہ ہیں روٹیاں لے آئے اور مجھے دیں اور پھر محبت سے فرمایا۔اچھا سالن بھی لیتے جاؤ۔پھر آپ دال کی دیچی اٹھا کر لے آئے اور مجھے دی جو میں نے روٹیوں پر انڈیل لی ہم جانے کی تیاری کر رہے تھے کہ اتنے میں حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی میر محمد الحق صاحب کو کہیں سے تلاش کر کے لے آئے۔اور ہمارے جانے کی ضرورت نہ رہی۔۲۳۔از ڈاکٹر صاحب موصوف : جب الہی بخش اکو نٹنٹ نے ” عصائے موسیٰ“ کتاب حضرت مسیح موعود کی مخالفت میں شائع کی۔اور حضرت اقدس کو اس کا علم ہوا تو حضور نے مجلس میں فرمایا کہ اس کتاب کے فوری منگوانے کی ضرورت ہے۔کوئی شخص لاہور جا کر لے آئے۔میں جھٹ کھڑا ہو گیا۔اور عرض کیا کہ حضور! میں یہ کتاب لاؤں گا۔حضور نے آمد ورفت کے لئے دو روپیہ خرچ عطا فرمایا۔غالباًا عصر کے بعد کا وقت تھا۔میں بٹالہ تک پیدل گیا اور وہاں سے ریل گاڑی میں لاہور پہنچا ان دنوں بٹالہ لاہور کا ریلوے کرایہ چودہ آنے تھا وہاں جا کر معلوم ہوا کہ وہ کتاب کسی دوست کے ذریعے حضرت اقدس کی خدمت میں بھجوائی جاچکی ہے۔چنانچہ میں اگلے روز ریل کے ذریعہ بٹالہ پہنچ کر وہاں سے پیدل قادیان آ گیا میرے آنے سے پہلے کتاب حضور کے پاس پہنچ چکی تھی۔ان دنوں میں وٹرنری کالج لاہور میں تعلیم پاتا تھا اور موسم گرما کی تعطیلات میں قادیان آیا ہوا تھا۔بابو الہی بخش پہلے معتقد تھا۔پھر اپنے تئیں ملہم اور موسے ہونے کا مدعی ہوا۔بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں