اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 241 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 241

241 جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خانصاحب کے ہاں بچی کی ولادت حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی ولایت کے ایک امتحان میں کامیابی۔مولانا مبارک احمد صاحب (پروفیسر جامعہ احمدیہ ) کے ہاں اولاد ہونے اور صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب کے رشتہ محترمہ قدسیہ بیگم صاحبہ بنت حضرت نواب محمد عبداللہ خانصاحب کے ساتھ مبارک ہونے کے متعلق آپ کی دعائیں سنی گئیں اور ان امور کے متعلق آپ مبشرات ہوئیں۔ایک دفعہ سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ آپ جا کر جن نکال آئیں خط لکھنے والے نے لکھا تھا کہ میری بچی جن کی وجہ سے مرگئی۔جن کہتا تھا کہ میری جگہ پر مکان بنایا ہے۔میں تمہیں مار دونگا۔میں اسے سمجھا رہا کہ جن کوئی چیز نہیں لیکن وہ تیسرے دن جن دیکھ کر چیخ مار کر مرگئی۔اسی طرح میرا نو جوان بچہ مر گیا۔حضور نے مولوی صاحب کو بتایا کہ جس طرح مرضی ہو آپ جن نکالیں۔یہ ایک وہم ہے جو بڑھتے بڑھتے حقیقت اختیار کر گیا ہے۔آپ جا کر دعائیں کریں۔اور ظاہری تدبیر جو مناسب ہو کر یں۔میں بھی آپ کے لئے دعا کروں گا۔چنانچہ مولوی صاحب چوہدری والہ ( تحصیل بٹالہ ) جا پہنچے۔خط لکھنے والے احمدی دوست نے جن کے واقعات سنائے اور کہا کہ میں نے لاحول وغیرہ ورد کئے لیکن فائدہ نہیں ہوا۔مولوی صاحب نے کہا کہ یہ شیطان ہے اور اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الْشَّيطنِ الْرَحِيمُ پڑھنے سے نکلے گا۔یہ تو آپ نے نہیں پڑھا۔کہنے لگے نہیں۔مولوی صاحب کی بات سے ان کی ڈھارس بندھی۔اور جن والی جگہ پر مولوی صاحب نے مصلیٰ بچھالیا۔اور یقین دلایا کہ میں جن کو نکلنے ہی نہیں دوں گا۔یہیں دبا دوں گا۔آپ دعا کر رہے تھے۔کہ اس شخص نے گھبرا کر کہا کہ وہ نکلا جن۔آپ نے کہا گھبراؤ نہیں میں نے دبا لیا ہے۔اور دیکھو اس کا قد پہلے سے چھوٹا ہے۔اس نے کہا قد ہے تو چھوٹا۔آپ نے کہا کہ اب چھوٹا ہی ہوتا جائے گا۔دوسری رات اس نے کہا کہ جن نکلا تو ہے لیکن دبا ہوا ہے اور بہت چھوٹا رہ گیا ہے۔تیسری رات جن نہیں نکلا اور اس کی تسلی ہوگئی۔اور آپ واپس چلے آئے۔سیرت :۔یہ معلوم کر کے کہ حضرت مولانا بقا پوری صاحب کے سوانح شائع ہونے والے ہیں حضرت عرفانی صاحب نے تحریر فرمایا۔کہ مولانا بقا پوری صاحب اور ان کے بڑے بھائی محمد اسمعیل صاحب سے مجھے اس وقت تعارف ہوا جبکہ دونوں لدھیانہ میں تحصیل علم میں مصروف تھے۔مجھے ان کے علمی ذوق کی وجہ سے کشش ہوئی۔اور مجھے نوعمر کا عیسائیوں اور آریوں سے دلیرانہ مباحثات کرنا مولا نا بقا پوری صاحب کو میرے قریب کرنے کا باعث ہوا رؤیا و کشوف حیات بقا پوری حصہ دوم ( صفحه ۱۱۰ تا ۱۲۳) وحصہ سوم (صفحہ ۳۱ تا ۳۶) میں درج ہیں۔