اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 236 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 236

236 پرسوں سارا شہر ہندو ہو جائے گا۔مولوی صاحب کو کھانے کے لئے کہا گیا تو آپ نے کھانے سے انکار کیا۔اور کہا میں تمہاری روٹی ہرگز نہیں کھاؤں گا۔اور آپ زار زار رونے لگے۔لوگ متاثر ہوئے اور کہا کہ کھانا کھا لیں۔پھر باتیں کریں گے لیکن آپ نے انکار کیا اور آپ کے آنسو جاری تھے۔ریکس نے کہا کہ عہد تو ڑنا جرم ہے۔مولوی صاحب نے کہا کہ ایمان سے بڑھ کر بھی کوئی چیز ہوسکتی ہے۔یہ بات اس کی سمجھ میں آگئی۔اور اس نے کہا کہ ہم ہر گز شدھ نہیں ہوں گے۔اور ہم خط بھجوا دیتے ہیں کہ وہ ہر گز نہ آئیں۔مولوی صاحب نے کہا کہ آپ پہلے خط لکھیں پھر میں کھانا کھاؤں گا۔چنانچہ آپ نے خط میں لکھوایا کہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور ہم تمہیں بھی اس کے قبول کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ہم میں سے کوئی بھی اپنا مذ ہب نہیں چھوڑے گا۔اور اگر کسی نے دوبارہ آنے کی کوشش کی تو وہ بہت ذلیل ہوگا۔اس کے بعد آپ نے کھانا کھایا۔اور چند دن قیام کر کے درس و تدریس کا کام جاری رکھا۔آریہ بہت تلملائے اور وہاں دوبارہ نہیں آئے۔اسی طرح ایک اور گاؤں کے مسلمانوں نے شدھی ہونے کا اقرار کر لیا تھا۔آپ نے وہاں پہنچ کر ان کو بھی شدھ ہونے سے بچالیا۔چنانچہ اس سے غیر احمدیوں پر بھی بہت نیک اثر ہوا۔حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال مرحوم ناظر دعوة و تبلیغ حضرت مولانا صاحب کے متعلق رقم فرماتے ہیں:۔کہ سندھ کی تبلیغ میں مولانا صاحب نے نہایت دیانتداری اور جانفشانی سے کام کیا اور علاقہ کی جماعتیں اور افراد کا خود ہی خیال رکھا کبھی شکایت نہیں ہوئی کہ فلاں جماعت کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔بعض چھوٹے واقعات سے بھی تقویٰ کا علم ہوتا ہے آپ نے لکھا کہ کوئٹہ کے دوست چاہتے ہیں کہ میں وہاں جاؤں۔یہ جگہ میرے حلقہ سے باہر ہے۔نظارت کی طرف سے اجازت نہ دی گئی تو کسی نے مولوی صاحب کو لکھا کہ آپ جماعت کوئٹہ کو لکھیں کہ وہ مرکز میں اس بارہ میں چٹھی لکھیں۔تو مولوی صاحب نے جواب دیا کہ میں ایسا لکھنا تقویٰ کے خلاف سمجھتا ہوں۔اس کا یہ مطلب ہوگا کہ مجھے وہاں جانے کی خواہش ہے۔نظارت کے احکام کی اطاعت اور تعاون خوشکن رنگ میں آپ نے کی۔گھر سے آپ کو اپنی جوان بچی کی شدید علالت کی خبر ملتی رہی چونکہ آپ قریب ہی میں قادیان سے گئے تھے اس لئے آپ نے آنے کے لئے اجازت طلب کرنے میں حجاب محسوس کیا۔جب مرکز کی اجازت سے کراچی تار دیا گیا تو آپ اپنے مرکز روہڑی آئے اور ایک رات قیام کر کے مناسب ہدایات دے کر قادیان آئے۔اس وقت جنازہ گھر سے لایا جا چکا تھا۔اور صرف ان کا انتظار ہورہا تھا۔آپ نے بوجہ علالت رخصت کی درخواست دی تھی۔آپ سے یہ خواہش کی گئی کہ ایثار کریں اور وہیں علاج کرالیں تو آپ نے تعاون