اصحاب احمد (جلد 10) — Page 201
☆ 201 قاضی اشرف علی صاحب مختصر حالات خاندان وغیرہ :۔محترم قاضی اشرف علی صاحب ولد قاضی یعقوب علی صاحب عباسی خاندان کے نونہال تھے آپ کا خاندان علی پور کھیڑہ ( تحصیل بھوگام )ضلع مین پوری میں آباد ہے۔یہ حالات ان کے چچا کے پوتے محترم قاضی شاد بخت صاحب ریٹائر ڈ انسپکٹر پولیس سے حاصل ہوئے ہیں۔افسوس کہ نہ ان کی تصویر موجود ہے اور نہ ان کی تاریخ ولادت محفوظ ہے۔قاضی شاد بخت آج کل قادیان میں مقیم ہیں آپ کی دو بچیوں سمیت آپ کے خاندان کی کل پانچ بچیوں کی شادیاں درویشان قادیان سے ہوئیں اور آپ کے ایک بھائی کا پوتا بھی بطور کار کن صدر انجمن احمدیہ کی ملازمت میں ہے۔آپ کی اہلیہ محترمہ سیدہ خدیجه خاتون صاحبه ( بنت سیدا کرام حسین سکنہ علی پور کھیڑہ ) کا جنازہ غائب پڑھاتے وقت سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔قاضی شاد بخت صاحب پر انے احمدی ہیں اور ایک مشہور خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اپنی قوم پر بھی ان کا بڑا اثر ہے جب ملکانہ میں ارتداد ہوا اور ہندوؤں میں تبلیغ کی گئی تو اپنی قوم کے اثر کی وجہ سے ملکانوں پر ان کا بڑا اثر پڑا تھا (60) محتر مہ خدیجه خاتون صاحبہ کا وصیت نمبر ۱۳۰۶۶ ہے اور بہشتی مقبرہ قادیان میں یاد گار نمبر ۷۶۰ لگ چکی ہے۔بعمر ۶۵ سال وفات پائی۔سورہ بی اسرائیل کی تغیر میں بنی اسرائیل کیطرح مسلمانوں کی دوبارتاہی کی پیشگوئیوں کے پورا ہونے کا ذکر کرتے ہوئے تفسیر کبیر میں سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ رقم فرماتے ہیں:۔اٹھارہ لاکھ مسلمان صرف بغداد اور اس کے گرد و نواح میں قتل کیا گیا۔شاہی خاندان کے تمام لوگوں کو ان کی فہرستیں بنا بنوا کر اور تلاش کر کر سکے قتل کیا گیا۔کہتے ہیں کہ صرف ایک شخص بھاگ کر بیچ سکا۔اور اسی کی نسل سے بہاولپور کے والیان ریاست ہیں ان کے علاوہ کوئی بھی خاندان ایسا نہیں جو اپنے آپ کو عباس کی طرف منسوب کرے(اس نوٹ لکھنے کے بعد مجھے معلوم ہوا ہے کہ یو۔پی میں عباسی خاندان کی بعض شاخیں موجود ہیں ان میں سے ایک نے مجھے اپنا شجرہ نسب بھی بھجوایا ہے۔‘) (61) اس میں یہ خاندان مراد ہے اور قاضی شاد بخت صاحب سے اس بارہ میں حضور کی تفصیلی گفتگو ہوئی تھی۔اور حضور کے ارشاد پر قاضی صاحب نے شجرہ حضور کی خدمت میں بھیجا تھا۔