اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 200 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 200

200 اور اسی کمرہ میں اس مقدس دار میں ہی انہوں نے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کی۔اللَّهُمَّ اغْفِرْلَهُ وَارْحَمْهُ وَارْفَعَ دَرَجَهُ فِي الْجَنَّهُ آمين (58) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب دام عزہ نے تحریر فرمایا:۔مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل قادیان سے بذریعہ تار اطلاع دیتے ہیں کہ بابا کرم الہی صاحب در ولیش وفات پاگئے ہیں۔انا للہ وانا اليه راجعون بابا كرم الى صاحب بہت معمر آدمی تھے۔(ان کی عمر غالباً ایک سوسال سے زیادہ تھی اور انہوں نے بڑے صبر اور استقلال اور اخلاص کے ساتھ قادیان میں اپنی درویشی زندگی کے دن گزارے۔وہ پاکستان بننے کے بعد پاکستان آگئے تھے۔مگر پھر بڑھاپے کے باوجود اخلاص کے جوش میں قادیان چلے گئے۔اور وہیں فوت ہوئے۔اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے۔اور ان کے پسماندگان کا دین ودنیا میں حافظ و ناصر ہو۔ان کے سارے لڑکے ان کی زندگی میں فوت ہو گئے تھے۔البتہ ان کے بعض پوتے پوتیاں اور نواسیاں اور ایک لڑکی پاکستان میں ہیں۔“ (59) میاں نظام الدین صاحب : - محترم میاں نظام الدین صاحب عرف جامو میاں کرم الہی صاحب کے بڑے بھائی تھے۔دونوں کے اکٹھے بیعت کرنے کا ذکر ہو چکا ہے۔میاں نظام الدین صاحب بعمر قریباً اسی سال تقسیم ملک سے بہت پہلے وفات پاگئے تھے۔موصی نہیں تھے۔صوم وصلوٰۃ کے پابند تھے۔گاؤں کی احمد یہ مسجد کی تعمیر میں انہوں نے بھی حصہ لیا تھا۔صاحب اولا د تھے۔یو ایک بیٹا زندہ ہے جیسا کہ قبل ازیں مرقوم ہوا۔(مؤلف) بیان میاں جلال الدین صاحب در ولیش۔