اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page xxii of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page xxii

xiii صحابہ کرام کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد حضرت خلیفہ المسی الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۵ جولائی ۱۹۴۹ء میں بمقام کوئٹہ فرمایا:۔رسول کریم علیہ فرماتے ہیں:۔" اذْكُرُو اَ مُوَتِكُمُ بِالخَيْرُ “ عام طور پر اس کے معنی کئے جاتے ہیں کہ مردوں کی برائی نہیں بیان کرنی چاہئے وہ فوت ہو گئے ہیں اور ان کا معاملہ اب خدا تعالیٰ سے ہے۔یہ معنی اپنی جگہ درست ہیں۔لیکن درحقیقت اس میں ایک قومی نکتہ بھی بیان کیا گیا ہے۔آپ نے اُذْكُرُوا الْمُوتِى بِالْخَيرِ۔نہیں فرمایا۔بلکہ آپ نے اموتکم کا لفظ استعمال کیا ہے۔یعنی اپنے مردوں کا ذکر نیکی کے ساتھ کرو جس کے معنی یہ ہیں کہ آپ نے یہ صحابہ کے متعلق ارشاد فرمایا ہے۔دوسری جگہ آپ فرماتے ہیں۔اَصْحَابِی مَا نَجُومِ بِابِهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدِيْتُمُ۔میرے سب صحابی ستاروں کی مانند ہیں تمام میں سے جس کے پیچھے بھی چلو گے ہدایت پا جاؤ گے۔کیونکہ صحابہ میں سے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی خدمت دین کا ایسا موقعہ ملا ہے جس میں وہ منفر د نظر آتا ہے۔اس لئے آپ نے موتکم کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔کہ تم انکو ہمیشہ یا درکھا کرو۔تا تمہیں یہ احساس ہو کہ ہمیں بھی اس قسم کی قربانیاں کرنی چاہئیں۔اور تا نو جوانوں میں ہمیشہ قربانی۔ایثار اور جرأت کا مادہ پیدا ہوتا رہے۔اور وہ اپنے بزرگ اسلاف کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتے رہیں۔“ (الفضل ۲۱ جولائی ۱۹۴۹ء)