اصحاب احمد (جلد 10) — Page 185
185 نے بتایا کہ بوقت بیعت (۱۹۰۲ء میں) آپ کی عمر بائیس برس تھی۔یہ دونوں بیانات باہم مطابق ہیں۔نے والد صاحب کیخدمت میں عرض کی کہ آپ مجھے لکھ دیں۔میں عدالت میں پیش کر دونگا۔والد ماجد نے کہا کہ لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں۔یہ باتیں زبانی بیان کر دیں۔لیکن حضور نے جواب دیا کہ میں اپنی زبان سے بیان نہیں کر سکتا۔کیونکہ مجھے اس بیان کی صحت کے متعلق یقین نہیں۔البتہ آپ کا بیان آپ کی طرف سے عدالت میں پیش کر دوں گا شیخ صاحب حضور کی صاف گوئی ، صداقت پسندی اور گریہ وزاری سے بہت متاثر ہوئے۔بیعت :۔مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ:۔والد صاحب سے اس خاندان کے حالات سن کر میں حضرت مسیح موعود کی عظمت سے متاثر تھا۔میں پھیری کر کے بزازی کا کاروبار کرتا تھا۔اس لئے حضور کے دعوی کی طرف کوئی توجہ نہ ہوئی۔ایک دن محمد چراغ صاحب مصنف سیف حق اور امام الدین صاحب ساکن قلعہ ہمارے گاؤں میں آئے۔محمد چراغ صاحب کی سہ حرفی کا مجھے صرف ایک شعر یاد ہے۔الف۔اُٹھ جیا چل قادیاں نوں جتھے مہدی مسیح نزول کیتا راسخ علم والے جیہڑے لوک آہے حلیہ دیکھ کے اونہاں قبول کیتا یہ موسم گرما تھا میں نماز تہجد کے لئے اٹھا تو دیکھا کہ چار پانچ گھروں کے فاصلہ پر چھت پر دو اشخاص عبادت میں مصروف ہیں اور جب میں نے نماز تہجد ختم کر لی تو پھر بھی ان دونوں کو میں نے مصروف عبادت دیکھا تو خیال آیا کہ یہ جو فرشتہ سیرت لوگ ہمارے گاؤں میں آئے ہیں ان سے ملاقات کرنی چاہئے۔چنانچہ ان سے ملاقات کی تو ان کی پاکیزہ دلی ان کے چہروں سے ہی نظر آتی تھی اور دریافت کرنے پرانہوں نے بتایا کہ ہم احمدی ہیں اور ہم نے یہاں ٹھیکہ پر کام لیا ہے۔اور چھ ماہ تک اسی گاؤں میں ہمارا قیام ہوگا۔امام الدین صاحب بھی موضع قلعہ میں خلافت اولی کے زمانہ میں فوت ہوئے۔** استفسار پر آپ نے بتایا کہ محمد چراغ صاحب کی بیعت غالبا ۱۹۰۰ء کی ہے۔آپ واقعی محمد کے چراغ تھے تہجد گزار، متقی اور نیک سیرت۔آپ ۱۹۰۶ء میں الہ بخش صاحب ٹوپی فروش امرت سر کی دکان پر فوت ہوئے اور امرت سر میں دفن