اصحاب احمد (جلد 10) — Page 184
184 پانچ ہزاری مجاہدین میں آپ کا نام چک ۳۳ ج سرگودھا میں بالفاظ 'بابا کرم دین صاحب ایک سوانتیس روپے کے قریب چندہ درج ہے۔شیخ رحمت اللہ صاحب دولت بی بی صاحبہ ( ہمشیرہ) عائشہ صاحبہ (اہلیہ) شیخ جھنڈ ا صاحب (والد) شیخ رحمت اللہ صاحب : محترم شیخ رحمت اللہ صاحب پسر مکرم شیخ جھنڈ ا صاحب قوم شیخ موضع طغل والہ نزد قادیان تقریباً ۱۸۷۶ء میں پیدا ہوئے تاریخ ولادت محفوظ نہیں۔یہ شیخ جھنڈا صاحب نے والد ماجد حضرت مسیح موعود سے چھ سال تک طب پڑھی۔اس لئے انہیں نہایت قریب سے حضور کی قبل از دعوی زندگی کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا تھا۔اور وہ حضور کی بے داغ سیرت اور بلند کرداری کے بہت مداح تھے۔سناتے تھے کہ ایک دفعہ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب نے مجھے حضرت مرزا صاحب ( مسیح موعود ) کو بلا لانے کے لئے فرمایا۔میں آپ حضور کے دروازے پر پہنچا تو یوں آواز آئی گویا کوئی عورت دردِ زہ کی وجہ سے کراہ رہی ہے سمجھا کہ شاید میں کمرہ بھول گیا۔لیکن دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہی کمرہ ان کا ہے۔چنانچہ میں دستک دے کر انتظار کرنے لگا۔تھوڑی دیر میں آپ نماز ظہر سے فارغ ہو کر تشریف لائے۔اور مجھ سے مصافحہ کیا۔میرا پیغام سن کر فر مایا کہ میں آتا ہوں۔آپ آئے تو والد ماجد نے بتایا کہ کل مقدمہ کی پیشی ہے۔آپ عدالت میں یہ بیان دیں۔آپ یہ سارے سوانح خاکسار مولف کی بار بار کی تحریک پر اخویم حاجی شیخ عبداللطیف صاحب ( قائد خدام الاحمد بید و سیکرٹری امور عامه لائلپور شہر ) پسر مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب نے ان سے دریافت کر کے مہیا کئے ہیں۔خاکسار نے بھی تقسیم ملک کے بعد پہلی بار شیخ صاحب محترم سے جولائی ۱۹۶۱ء میں بمقام لائکپور ملاقات کی اور ان سے دعا کرائی اور سوانح کے تعلق میں بعض امور دریافت کئے۔جنوری ۱۹۳۵ء میں صحابہ قادیان کی فہرست کی تیاری کے وقت آپ نے اپنی عمر پچپن سال بتائی تھی۔اور آپ