اصحاب احمد (جلد 10) — Page 182
182 نہیں ہو سکا کہ ان کے بڑے بیٹے نے بحالت ایمان حضرت مسیح موعود کی زیارت کی تھی یا نہیں۔چوہدری اللہ بخش صاحب محترم چوہدری اللہ بخش صاحب ولد میراں بخش قوم وڑائچ ساکن موضع لکھن وال ( ضلع گجرات ) بعده متوطن چک ۹ شمالی پنیار متصل بھلوال (ضلع سرگودھا) کی تعلیم لوئر مڈل تک تھی۔بطور پٹواری ملازم ہوئے۔آپ کی شادی محترمہ حسین بی بی قوم ساہی سکنہ پٹیالہ ساہیاں ( ضلع گجرات ) سے ہوئی۔اولاد کے نام فضل احمد ، غلام احمد ، غلام نبی مرحوم اور منظور بیگم ہیں۔احمدیت کیونکر قبول کی وغیرہ کی روایت آپ نے یوں بیان کی:۔میں نے ۱۹۰۳ ء یا ۱۹۰۴ء میں بیعت کی۔چوہدری حاکم علی صاحب سفید پوش چک ۹ شمالی کی تبلیغ کے ذریعہ احمدی ہوا۔جب کرم دین کا مقدمہ گورداسپور میں تھا تو میں ان دنوں قادیان گیا۔اور پھر سیدھا گورداسپور آیا۔مقدمہ سے فراغت کے بعد سوہل کے اسٹیشن پر اُتر کر فیض اللہ چک رات گزاری اور اگلے دن صبح قادیان آگیا۔حضرت صاحب کے پاس ایک آدمی ضلع سیالکوٹ سے آیا اور کہا کہ ہم پیر تھے۔تعویز دیا کرتے تھے۔اس پر لوگوں کو اعتقاد تھا۔اب کیا ارشاد ہے۔حضور نے فرمایا۔قرآن مجید کی کوئی آیت لکھ کر دیدیا کریں۔پھر اس نے رہن کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ جو شخص زمین رہن رکھ کر خود کاشت کرے اس کے لئے جائز ہے کیونکہ پیداوار لینے کی حالت میں نفع و نقصان دونوں باتیں ہوسکتی ہیں۔اس لئے جائز ہے۔یو آپ نے پچھتر چھہتر سال کی عمر میں ۱۹۴۸ء یا ۱۹۴۹ء میں وفات پائی۔اور چک 9 شمالی میں دفن ہوئے آپ نے نویں حصہ کی وصیت کی ہوئی تھی۔آپ نصف مربع اراضی کی آمد اشاعت اسلام کے لئے و اور دیگر چندوں میں بھی یہ شوق حصہ لیتے تھے۔اور احمدیت کی تبلیغ کرتے تھے۔- حمدا یہ روایت اخویم مولوی عبد الرحمن صاحب انور نے ان سے ۲۹ اگست ۱۹۳۳ء کو سن کر قلمبند کی۔اور اس وقت آپ