اصحاب احمد (جلد 10) — Page 175
175 حاصل ہوئے ہیں۔واقعہ بیعت و زیارت اخویم انور صاحب نے ۲۴ نومبر ۱۹۳۳ء کو مرحوم سے قلمبند کیا تھا۔اور اس وقت تصویر بھی اتاری تھی۔مرحوم اس وقت ملازمت سے فارغ ہو کر جھنگ میں مقیم تھے۔کا تذکرہ سنا اور تحقیقات میں مصروف رہے۔اسی اثنا میں ان کے بہنوئی مولوی صالح محمد مرحوم نے جو ان سے پہلے بیعت کر چکے تھے۔اور سہارنپور کے اسٹیشن ماسٹر تھے آپ کو ریلوے میں ملازم کروادیا۔آپ ۱۹۲۶ء میں اسٹیشن ماسٹری کے عہدہ سے ملازمت سے سبکدوش ( ریٹائر ) ہوئے۔بیعت و زیارت :۔آپ بیان کرتے تھے کہ :۔میں ۱۹۰۲ء میں لدھیانہ اسٹیشن پر تبدیل ہو کر آیا۔حضرت مسیح موعود پٹیالہ تشریف لے جارہے تھے۔اور سیکنڈ کلاس میں تشریف رکھتے تھے۔ریل کا ڈبہ ریز رو نہیں کرایا ہوا تھا۔اس وقت ایک گھنٹہ تک وہ گاڑی لدھیانہ اسٹیشن پر کھڑی رہی۔اس وقت گاڑی کے اوپر بیٹھ کر میں نے حضرت صاحب کی بیعت کی۔بہت سے ہندو اور مسلمان اسٹیشن پر اکٹھے ہو گئے تا کہ آپ کی زیارت کر سکیں۔اور پلیٹ فارم کھچا کھچ بھر گیا۔وہاں مجھ سے کوئی خاص بات نہیں ہوئی۔اور نہ ہی کسی شخص نے کوئی بات پوچھی۔نہ ہی میں نے کوئی خاص بات دریافت کی۔اہلی زندگی :۔آپ نے تین شادیاں کیں۔اہلیہ اول محترمہ فاطمه صا حبہ مرحومہ (اولد ) اہلیہ دوم محترمه فاطمہ صاحبہ (اولاد۔سعد اللہ خاں ٹیچر ربوہ۔عبدالحمید مرحوم ) اور اہلیہ سوم محتر مہ صالحہ بی بی صاحبہ۔(اولاد عطاء اللہ مرحوم۔نعیم اللہ۔عطا اللہ، اور ثناء اللہ مرحوم ) خدمات سلسلہ : ۱۹۲۶ء میں ملازمت سے سبکدوش ہونے پر آپ نے قرآن شریف مکمل حفظ کیا۔اور صحاح ستہ کا مطالعہ کیا اور رمضان شریف میں مسجد احمد یہ میں جہاں آپ امام الصلوۃ تھے قرآن کریم سناتے تھے۔آپ کو مسائل دینیہ خصوصاً احادیث اور کتب سلسلہ اور شنائی لٹریچر پر اتنا عبور حاصل تھا کہ کسی مخالف کو آپ کے سامنے اعتراض کرنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔آپ ہمیشہ تبلیغ میں مشغول رہتے تھے۔ایک عالم کا بیٹا بیعت پر آمادہ ہوالیکن والد کے مقاطعہ کی دھمکی سے خائف ہو کر رک گیا۔وہ زمانہ بحث و مباحثہ کا تھا۔چنانچہ آپ نہ صرف خود اس میں دلچسپی لیتے تھے بلکہ مرکز سے بھی علماء بلوا کر تقاریر کرواتے تھے۔چنانچہ ایک زبر دست مباحث میں مکرم شیخ مبارک احمد صاحب فاضل ( حال رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ ) سے مولوی ثناء اللہ صاحب امرت سری نے سخت