اصحاب احمد (جلد 10) — Page 141
141 فن ہوئے۔اَللَّهُمَّ اغْفِرْلَهُ وَارْحَمْهُ۔۔۔۔آمین۔چوہدری عبد الغنی صاحب :۔محترم چوہدری عبدالغنی صاحب ولد محترم چوہدری مولا بخش صاحب صحابی کے ہاں محترمہ حشمت بیگم ہمشیرہ حضرت حاجی غلام احمد خانصاحب کے بطن سے بمقام کر یام ۱۸۹۵ء میں پیدا ہوئے۔آپ کی والدہ انداز ۱۹۰۲ء میں وفات پا چکی تھیں۔جبکہ آپ چھ سات سال کے تھے اگلے سال والد صاحب نے بیعت کی تو آپ کا نام بھی بیعت کے لئے بھیجا گیا۔آپ کو باوجود صغر سنی کے حضرت اقدس کی ایک دو بار زیارت قادیان آکر کرنے کا موقع ملا۔پرائمری تک مقامی مدرسہ میں اور مڈل تک نواں شہر کے ور ٹینکر مڈل سکول میں آپ نے تعلیم پائی۔ان (الف) حاجی صاحب کے شجرہ میں چوہدری مولا بخش صاحب کا بھی ذکر ہے۔(ب) البدر بابت ۴ ستمبر ۱۹۰۳ء میں فہرست مبایعین میں کریام کے ”مولا بخش “عبدالغنی اور والدہ صاحبہ مولا بخش کے اسماء مرقوم ہیں (صفحہ ۲۶۴) خاکسار کے استفسار پر چوہدری مہر خانصاحب تحریر فرماتے ہیں کہ کریام میں دو مولا بخش تھے دونوں صحابی تھے۔چونکہ یہاں ولدیت نہیں لکھی لہذا معلوم نہیں کہ کونسا مولا بخش مراد ہے۔ایک مولا بخش ولد امام بخش تھے جن کا نام شجرہ حاجی غلام احمد صاحب میں آچکا ہے۔جو صحابی تھے۔دوسرے مولا بخش ولد گلاب خاں بھی صحابی تھے ان کی وفات ۳ مئی ۱۹۳۶ء کو ہوئی۔“ خاکسار مئولف عرض کرتا ہے کہ چوہدری مہر خانصاحب کو چونکہ معلوم نہیں کہ دیگر کون سے اسماء قریب میں متصل درج ہیں اس لئے انہوں نے اس پر شک کا اظہار کیا ہے۔ورنہ چونکہ مولا بخش کے ساتھ ان کے لڑکے عبدالغنی اور والدہ مولا بخش کا بھی ذکر ہے اس لئے تعین ہو جاتی ہے کہ مولا بخش ولد امام بخش ہی مراد ہیں۔اس کی مزید تائید اس سے بھی ہو جاتی ہے کہ چوہدری مہر خان صاحب بھی عبدالغنی سے ان کا لڑکا اور والدہ مولا بخش سے کریم بی بی والدہ مولا بخش ولد امام بخش ہی مراد لیتے ہیں اور موصوفہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ انہوں نے حضور کی بیعت کی۔لیکن یہ صحیح یاد نہیں ہے کہ حضور کی زیارت بھی کی ہے یا نہیں۔اور یہ کہ سن وفات کیا ہے۔نیز خاکسار مئولف کے نزدیک مولا بخش ولد گلاب خاں کا ذکر قریباً ایک ماہ بعد کے بیعت کنندگان میں البدر بابت ۱۹اکتو بر ۱۹۰۳ء میں آتا ہے۔الفاظ یہ ہیں ” مولا بخش صاحب کر یام اور ا سکے متصل اہلیہ مولا بخش صاحب ( سکنہ کریام) بھی درج ہے۔(ص۳۰۴) آپ کے حالات بھی معرفت اخویم چوہدری احمد دین صاحب بی اے مکرم چوہدری مہر خان صاحب ( صحابی ) موصوف سے حاصل ہوئے ہیں خاکسار نے چوہدری عبد الغنی صاحب کو دیکھا ہوا ہے۔