اصحاب احمد (جلد 10) — Page 139
139 خدمات سلسلہ :۔آپ نے ۱۹۳۰ء میں والد صاحب کی طرف سے ایک دیگ لنگر خانہ قادیان کو دی۔آپ دسویں حصہ کے موصی ہیں آپ کی وصیت کا نمبر ۳۷۷۹ مورخہ ۶/۱۰/۳۳ ہے آپ کی موجودہ جائیداد کی قیمت نظامت جائیداد کے ذریعہ چالیس ہزار روپیہ مقرر ہوئی ہے اور آپ نے اس کا دسواں حصہ چار ہزار روپے ادا کر دیا ہے۔آپ دفتر اول سے تحریک جدید کے مالی جہاد میں شامل ہیں اور دور اول میں چار صد ستر روپے ادا کر چکے ہیں (صفحه ۳۰۰) قریباً چالیس سال قبل کی بات ہے کہ آپ کو معلوم ہوا کہ سید نا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) کو کچھ روپیہ کی ضرورت ہے آپ قادیان گئے اور اراضی رہن لئے بغیر روپیہ کی پیشکش کی حضور نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب دام عزہ سے ملاقات کے لئے کہا۔جنہوں نے فرمایا کہ اراضی رہن رکھے بغیر روپیہ نہیں لیا جاسکتا۔چنانچہ مجبوراً آپ نے یہ امر قبول کر کے روپیہ دیدیا۔حضرت حاجی صاحب موصوف نے ۱۹۴۳ء میں وفات سے قبل اپنی وصیت میں یہ بھی لکھوایا تھا کہ میرے بعد امیر جماعت کثرت رائے سے مقرر کیا جائے۔البتہ میری خواہش ہے کہ چوہدری مہر خاں صاحب کو مقرر کیا جائے۔چنانچہ آپ کے بعد با تفاق رائے چوہدری صاحب کو ہی امیر جماعت منتخب کیا گیا۔نیز آپ مدرسہ احمد یہ موضع کر یام کے مینجر بھی مقرر ہوئے۔چک ۰۹ اگ۔ب میں جہاں آپ قریباً چودہ سال سے آباد ہیں آپ صدر جماعت ہیں اور جماعت کا کام خوب خوش اسلوبی سے چلا رہے ہیں۔آپ مہمان نواز ہیں اور ضرورت مند کی حاجت روائی کرتے ہیں۔