اصحاب احمد (جلد 10) — Page 122
122 کہ از راہ کرم میرا رشتہ بھی حضرت حاجی صاحب نے ہی کرایا تھا۔اور میرے لئے بہت بابرکت ثابت ہوا ہے میں بہت مطمئن ہوں۔اور بھی کافی دوستوں نے ذکر کیا ہے کہ ہمارے رشتوں میں بھی حاجی صاحب کی کوششوں کا دخل ہے۔الغرض علاقہ کے اکثر لوگ اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کے انتظام کے لئے آپ کی خدمت میں عرض کرتے تھے۔اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے بصیرت عطا فرمائی تھی۔اور آپ مناسب انتظام فرما دیتے تھے۔جوطرفین کے لئے اطمینان کا موجب ہوتا۔سب احمدیوں کو آپ پر بھروسہ تھا۔اور آپ سب کی امداد کے لئے وقف تھے۔قادیان دارالامان سے جب کبھی کوئی تحریک آتی تھی تو آپ عموماً تین افراد پر مشتمل وفد کی صورت میں اپنے حلقہ کی جماعتوں میں تحریک فرمانے کی غرض سے دورہ فرماتے تھے۔اور خاص تحریک کے علاوہ آپ دوستوں کو تربیتی باتیں بھی سناتے تھے۔جن میں حضرت مسیح موعود کے چشم دید حالات اور واقعات بیان فرماتے تھے اور یہ باتیں احباب کی اصلاح اور روحانی ترقی اور احمد بیت سے وا بستگی اور اخلاص میں مزید ترقی کا موجب بنتی تھیں۔اس قسم کے کئی مواقع پر آپ میرے پاس بھی تشریف لائے۔ایک دفعہ میں باغبانپورہ میں تھا اور اس حلقہ کا پریذیڈنٹ تھا۔آپ ایک وفد کی صورت میں جس میں آپ۔حاجی رحمت اللہ صاحب راہوں والے اور ایک اور صاحب جن کا نام میرے ذہن سے اتر گیا ہے شامل تھے۔میرے ہاں دورا تیں ٹھہرے۔شب وروز دعاؤں میں نیک تحریکوں میں اور مختلف واقعات کے بیان میں گذرے۔اکثر حصہ رات کا یہ بزرگ نماز اور دعاؤں میں گذارتے تھے۔حضرت حاجی صاحب نے جمائل شریف اپنے ساتھ رکھی ہوتی تھی بوقت فرصت تلاوت فرماتے تھے۔ان بزرگوں کی آمد پر ہمارے حلقہ کے دوستوں کو خاص شوق ہوا۔اور بکثرت حاضر رہتے اور بزرگوں کی باتوں سے مستفیض ہوتے۔دوسری رات جماعت کے دوستوں نے خاص طور پر عرض کیا کہ آپ لوگ پرانے بزرگ ہیں اور احمدیت کا ابتدائی زمانہ آپ نے دیکھا ہے۔آپ اپنی زندگی کا کوئی خاص واقعہ سنائیں جس سے ہمارا ایمان بڑھے۔حاجی صاحب نے بیان فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کی توجہ اور دعاؤں سے مجھ پر قرآن مجید کے علوم کثرت سے کھلے ہیں جب کسی حصہ کو پڑھتا ہوں اس کے معانی اور معارف کھل جاتے ہیں اور بعض معارف بیان بھی فرمائے جو آپ کو تفہیم ہوئے تھے۔نیز فرمایا کہ جب کبھی کسی مخالف سے بات کرنے کا موقع ملتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسی باتیں دل میں ڈال دیتا ہے کہ مخالف کا منہ بند ہو جاتا ہے۔بعض ایسے واقعات بھی بیان فرمائے کہ