اصحاب احمد (جلد 10) — Page 123
123 سوال پیدا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب القاء فرمایا جو پہلے میرے علم میں نہیں تھا آپ کی باتیں سن کر رقت طاری ہوئی اور ہماری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔جونکہ باتیں آپ کے دل سے خاص عشق الہی میں ڈوبی ہوئی نکلتی تھیں۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دلوں پر انوار کا نزول ہو رہا ہے یہ بیان خاص طور پر جماعت کے دوستوں کے ایمان میں ترقی کا موجب بنا اور جوتحریک آپ لے کر آئے تھے بہت کامیاب رہی۔غالباً ولایت میں کسی مسجد کے لئے چندہ کی تحریک تھی ہر دوست نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اجتماعی دعا بھی کی گئی جس میں دوستوں پر رقت طاری تھی میرا دل باغ باغ تھا کہ ان بزرگوں کی آمد کی وجہ سے دورا تیں ہمارے گھر میں انوار الہیہ کا نزول ہوتا رہا۔الحمد للہ۔دوسر اوفد میرے سرال کے گاؤں کھرل خورد ( تحصیل ہوشیار پور ) تشریف لایا۔اس میں حضرت حاجی صاحب چوہدری چھجو خانصاحب امیر جماعت احمد یہ سڑو ہ ضلع ہوشیار پور۔تیسرے غالباً محترم چوہدری عدالت خانصاحب سر وعدہ والے شامل تھے کوئی نو بجے کے قریب ہمارے ہاں پہنچے۔ہمیں ان بزرگوں کی آمد سے بہت خوشی ہوئی۔وہ جمعہ کا روز تھا ہم نے ہر قسم کے آرام کا سامان کر دیا۔حاجی صاحب نے فرمایا آج جمعہ ہے ہم نے غسل کرنا ہے حویلی میں ملکہ لگا ہوا تھا۔غسل خانہ بنا ہوا تھا۔سقاو ا پانی سے بھر دیا گیا۔پہلے حاجی صاحب غسل خانہ میں تشریف لے گئے۔مسواک وغیرہ فراہم کر دی گئی۔حاجی صاحب نے ایک گھنٹہ کے قریب وقت غسل خانہ میں خرچ کیا۔ایک صاحب بار بار فرماتے کہ حاجی صاحب نے بہت وقت لگایا ہے۔کھانا وغیرہ بھی آ گیا۔جب آپ باہر تشریف لائے تو اس دوست نے کہا کہ حاجی صاحب بہت لمبا غسل کیا ہے اس پر حاجی صاحب نے فرمایا کہ میں جمعہ کا غسل عموماً لمبا کیا کرتا ہوں۔اور تمام جسم اور ضروری کپڑوں کی صفائی بھی کر لیتا ہوں۔پاؤں وغیرہ کی میل اچھی طرح اتارتا ہوں۔جسمانی صفائی کا اثر روح پر پڑتا ہے اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے روز کو خاص اہمیت دی ہے نماز جمعہ میں ایک وقت آتا ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔جمعہ کے روز جسم اور کپڑوں کی صفائی کا ضرور اہتمام کرنا چاہئے۔تاجمعہ کی عبادت میں ہماری روحانی ترقی ہو اور دعائیں قبول ہوں۔ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں خاص دعا کی قبولیت کا وہ وقت عطا فرمائے۔اور خاص فضلوں کے دروازے ہم پر کھل جائیں۔الغرض بہت لطیف گفتگو تھی اور نصیحت آمیز تھی۔ایک سبق آموز واقعہ جس پر میں نے تقریباً ساری عمر عمل کر کے فائدہ اٹھایا وہ یوں ہوا کہ ایک دفعہ نواں شہر میں جو کر یام سے تقریباً ڈیڑھ میل کے فاصلہ پر واقعہ ہے۔تبلیغی جلسہ ہورہا تھا مبلغین مرکز سے تشریف