اصحاب احمد (جلد 10) — Page 108
108 چنانچہ جب رسالپور چھاؤنی پہنچ گئے تو انہیں خلاف توقع نظر بند نہیں کیا گیا۔کیونکہ بھاگ کر جانیوالوں کو قاعدہ کے مطابق آتے ہی نظر بند کر دیا جاتا ہے اور پھر کورٹ مارشل کے تحت انہیں قید کی سزا دی جاتی ہے اگلے روز دربار میں انہیں پیش ہونا تھا۔راستہ بھر حاجی صاحب دعا کرتے جاتے تھے اور چوہدری عبد الغنی صاحب آمین کہتے جاتے تھے۔کرنل صاحب نے حاجی صاحب کو دربار میں داخل ہوتے ہی کر سی دی۔حالانکہ فوج کے کمشنڈ آفیسر ( Commissioned officer) کو ہی کرسی ملتی ہے۔لیکن آپ کے چہرہ کی بزرگی کا اس کے دل پر گہرا اثر ہوا جس کی وجہ سے آپ کے ساتھ بہت عزت و تکریم کے ساتھ پیش آیا۔آپ نے اس کے بھاگنے کی چینی وجوہات بیان کیں۔جو حضور نے فرمائی تھیں۔اس پر کرنل صاحب نے کہا کہ اچھا ہم اسے چھوڑتے ہیں۔آئندہ محتاط رہے۔سو اس طرح خدا تعالیٰ نے حضور کی دعا اور آپ کی دعا سے رہائی کی صورت پیدا کردی ( بیان چوہدری عبدالغنی صاحب) حاجی صاحب ۱۹۳۰ء میں کار بنکل سے بیمار ہو گئے تو قادیان آئے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پرانا طریق علاج متروک ہو چکا ہے۔اور حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خانصاحب سے فرمایا کہ گلیسرین کی پٹی کے ذریعہ علاج کریں۔چنانچہ علاج کے لئے نور ہسپتال میں ایک علیحدہ کمرہ آپ کو دے دیا گیا اور گلیسرین کی پٹی سے آپ چند روز کے اندر صحت یاب ہو گئے۔انہی ایام میں آپ نے حضور کی خدمت میں درخواست کی کہ ہمیں از راہ شفقت وقت دیں تا میں اپنے لڑکے ظہور الدین کی بسم اللہ کر اسکوں۔حضور کی طرف سے جواب ملا کہ میں خود چار بجے شام ہسپتال آرہا ہوں۔اس موقع پر بسم اللہ کر دوں گا۔چنانچہ حضور تشریف لائے اور اس کمرہ میں آگئے جس میں حاجی صاحب ٹھہرے ہوئے تھے۔اور چوہدری ظہور الدین صاحب کی بسم اللہ کرائی۔اور قاعدہ میسر نا القرآن شروع کرایا۔بعدہ شیرینی تقسیم کی گئی۔اس کے بعد حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے حضور سے ہسپتال کے ایک حصہ کی توسیع کے متعلق عرض کیا تو حضور نے پانچ صد روپیہ اپنی طرف سے دینے کا وعدہ فرمایا۔حاجی صاحب نے بھی پچاس روپے کا وعدہ کیا۔دیگر حاضر احباب نے بھی وعدے کئے۔چنانچہ اس وقت نقد اور وعدوں کی میزان قریباً ایک ہزار تک پہنچ گئی۔۱۹۴۲ء میں جب آپ بعارضہ ٹی بی امرت سر ہسپتال میں زیر علاج تھے تو حضور ایک دفعہ ہسپتال میں اپنا معائنہ کرانے کے سلسلہ میں تشریف لائے۔حضور جب واپس تشریف لیجانے لگے تو چو ہدری عبدالغنی صاحب نے